سوشل میڈیا اور اس کےاثرات

تحریر تسنیم زہرہ
ٹی وی اور ریڈیو کی اگر جدید شکل کی بات کی جائے تو ہمارے سامنے سوشل میڈیا آتا ہے جس کی جدت اور آسانیوں نے ہماری زندگیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے.یہ آج کل کے دور کا سب سے زیادہ پاور فل میڈیا ہے جس نے پوری دنیا کو حقیقی معنوں میں گلوبل ولیج بنا دیا ہے. اس پر بات کی جانی بے حد اہم ہے کیونکہ یہ وقت آچکا ہے کہ ہماری زندگی سوشل میڈیا کے بغیر ادھوری ہے یہ ہمارے لئے اس قدر لازم و ملزوم ہو چکا ہے جس طرح سانس لینے کے لئے آکسیجن
اگر سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات پر بات کی جائے تو دونوں کا پلڑا ہم یکساں پائیں گے. جس قدر وسیع فوائد ہیں اسی قدر لاتعداد نقصانات بھی ہیں. اگر فوائد کی بات کی جائے تو سوشل میڈیا کسی بھی خبر کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کا سب سے تیز ترین ذریعہ ہے. وہ حقائق جو نیوز چینل سے ہم تک نہیں پہنچ سکتے وہاں سوشل میڈیا کا کمال شروع ہوتا ہے. سوشل میڈیا پر پابندیاں نیوز چینل کی نسبت بہت کم ہیں. اسی لیے یہاں پر تمام خفیہ خبریں بھی پائی جاتی ہیں جن کو مین سٹریم میڈیا پر نشر کرنے پر پابندی ہے. اگر سب سے بڑے فائدے کی بات کی جائے تو وہ نوجوان نسل کی تعلیم میں مدد کا فائدہ ہے. طلبہ اپنی مرضی کا ہر طرح کا تعلیمی مواد سوشل میڈیا سے نکال سکتے ہیں اور بنا کسی مدد کے اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں بہتر سے بہتر پرفارم کر سکتے ہیں. یہاں دفاتر، سکول ادارے، اخبارات، بینک غرض ہر شعبے کی تفصیلات موجود ہیں. دنیا بھر کی معلومات صرف ایک کلک کی دوری پر پائی جاتی ہیں. سوشل میڈیا کی مدد سے ہر طرح کا ہنر گھر بیٹھ کر سیکھا جا سکتا ہے. جنہیں لوگ عموما کئ روپے دے کر سیکھتے ہیں. دنیا کی کسی بھی کتاب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے. یہاں تک کہ کسی بھی ملک کے کسی بھی اخبار یا جریدے تک رسائی بہت ہی آسان ہو چکی ہے. اسی طرح آج کل سوشل میڈیا روزگار کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن چکا ہے. اپنی قابلیت دنیا کے سامنے لانے کے لیے سوشل میڈیا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے. ایک زمانہ تھا کہ اپنی پسندیدہ شخصیات کو صرف ٹی وی پر دیکھا یا صرف ریڈیو پر سنا جاتا تھا ان سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا مگر اب سوشل میڈیا کے ذریعے عوام اپنے پسندیدہ شخصیات سے براہ راست رابطے میں آسکتی ہے. ان کو براہ راست پیغامات بھیجے جا سکتے ہیں اور ان پوسٹ پر کمنٹس کیے جا سکتے ہیں. اب تمام تر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کال اور ویڈیو کال کی بھی سہولیات دستیاب ہیں جس نے ہمارے پیاروں سے رابطے کو ہمارے لئے مزید سے مزید تر آسان بنا دیا ہے. خوبصورت فلٹرز کی آپشن نے نے ویڈیو کالنگ میں تفریح کا رنگ بھی بھر دیا ہے
اب نقصانات کی طرف ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا کے تمام تر فوائد رائیگاں چلے جاتے ہیں اگر ہم ان سے مستفید ہونے کی بجائے وقت کے زیاں کو اپنا شعار بنا لیں. سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ نوجوان نسل اپنا تمام تر وقت سوشل میڈیا پر موجود گیمز اور تفریح کے سامان میں گزار دیتی ہے. اس کی بدولت تمام تر عملی سرگرمیوں اور عملی کھیلوں کی طرف رجحان نوجوان نسل میں غیر مقبول ہوتا جا رہا ہے. ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر گھنٹوں گیم کھیلتے رہنا. گھنٹوں سوشل میڈیا کی دوسری سرگرمیوں میں مصروف رہنا صحت کے لئے انتہائی مضر ہے. یہ انسان کو کسی نشے کی طرح اپنا عادی کر لیتا ہے. سوشل میڈیا کی ہماری زندگیوں میں شمولیت سے فیملی ٹائم تو بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے. گھروں میں ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی موبائل فون پر بات چیت چل رہی ہوتی ہے. اسی طرح خاندان کے میل جول بھی نیٹ پر ہی بھگتا دیے جاتے ہیں. اس طرح وہ خاندانی نظام جس پر ہم فخر کیا کرتے تھے رفتہ رفتہ ختم ہوتا جا رہا ہے. سوشل میڈیا جہاں معلومات کا آسان ترین ذریعہ ہے وہاں یہ غلط اور نامناسب معلومات کے فروغ میں بھی ایک اہم ہتھیار ہے سوشل میڈیا پر ہر طرح کی معلومات تو پائی جاتی ہیں مگر اگر اس بات کی گارنٹی نہیں کہ ہر قسم کی معلومات درست ہوں. سوشل میڈیا کی آزادی ناتجربہ کار لوگ اچھے طریقے سے استعمال نہیں کر پاتے تو غیر اخلاقی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور صرف اور صرف اپنے وقت کا زیاں کرتے ہیں. جہاں میڈیا شخصی آزادی کا پرچار کرتا ہے وہیں سوشل میڈیا پر شخصی آزادی کا غلط استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے. جس کا جو دل کرتا ہے وہ بول لیتا ہے. سوشل میڈیا صارفین میں برداشت کی بہت کمی پائی جاتی ہے. دوسروں کی رائے کا احترام بالکل نہیں کیا جاتا گالم گلوچ تو بالکل عام سی بات ہوگئی ہے. یہاں پر صارفین اپنا ذاتی ڈیٹا آسانی سے شیئر کر دیتے ہیں. اگر یہ ڈیٹا غلط لوگوں کے ہاتھ چڑھ جائے تو وہ اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو بلیک میل کر کے ان کی زندگیاں تباہ کرتے ہیں. مزید یہ کہ جہاں سوشل میڈیا کمائی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے وہیں یہاں پر لوٹ مار کا بازار بھی بہت گرم ہے. فراڈ اور دھوکا آسانی سے کیا جا سکتا ہے. اس کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے ہر چیز کی تصدیق اور تحقیق لازمی کی جائے. اس کے علاوہ جہاں ہم خود شخصی آزادی کا بھرپور استعمال کرتے ہیں وہاں دوسروں کی آراء کا بھی احترام کیا جائے اور اپنا ذاتی ڈیٹا اسی حد تک شیئر کیا جائے جس حد تک کوئی آپ کو نقصان نہ پہنچا سکے