عنوان :جمہوریت اور پریشر گروپس

از قلم :قمر شہزاد
جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے جس کے ذریعے نمائندے لوگوں کی کثرت رائے کے بعد ہی ایوانوں میں پہنچتے ہیں اور ووٹرز کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنے آزادانہ فیصلے کا استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نمائندے کا انتخاب کرکے اسے ایوانوں تک پہنچائیں اور جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ نمائندے بیلٹ پیپرز کے ذریعے ہی منتخب ہو کر ایوانوں کا رخ کریں۔
تاہم ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو کہ دوسرے لوگوں پر دباؤ ڈال کر مختلف طریقوں سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی حد تک کو اپنے اس عمل میں کامیاب بھی رہتے ہیں ایسے افراد کو ہمارے معاشرے میں پریشر گروپ کا نام دیا جاتا ہے جو کہ کسی نہ کسی طریقے سے جمہوریت کے عمل کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔
پریشر گروپس سے تعلق رکھنے والے لوگ سیاسی نظام میں لوگوں کے عمل دخل کو بڑھا دیتے ہیں اور لوگوں کو سیاسی عمل میں شامل ہونے اور حصہ لینے پر مجبور کرتے ہیں اس طرح وہ جمہوریت کے نظام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
پریشر گروپ جمہوریت پر دو طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ جمہوریت کے معیار کو بہتر بناتے ہیں اور لوگوں میں ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اور اس بارے میں لوگوں کو بہتر طور پر معلومات فراہم کرتے ہیں۔جو کہ قانون ساز اداروں اور حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا باعث بنتے ہیں۔
اور دوسرا یہ کہ پریشر گروپس بعض اوقات اپنی معلومات کے ذریعے حکومت کی ناقص پالیسیوں کو بے نقاب کر دیتے ہیں اور اس طرح حکومت پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے اور حکومت کے احتساب کے عمل کو یقینی بنانے میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔
تاہم یہ پریشر گروپ زیادہ تر اپنے ذاتی مفادات کو عوام کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ عام عوام کے بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جو کہ وہ برائے راست حکومتی نمائندوں تک نہیں پہنچا سکتے اور اس طرح اس حوالے سے پریشر گروپ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے لوگوں کے مسائل کو حکومت کے سامنے رکھتے ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے یہ لوگوں کی توجہ حاصل کرلیتے ہیں اور پھر لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کرتے ہیں۔
حکومتوں کے بنانے اور توڑنے میں پریشر گروپس کا اہم کردار ہوتا ہے اور یہ اپنی مرضی کی حکومت کی تشکیل کے بعد حکومتی اداروں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں جس سے معاشرے میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا عمل جنم لیتا ہے جو کہ معاشرے میں بگاڑ کے سبب پیدا کرتا ہے۔
زیادہ تر لوگوں کی پریشر گروپ کی زد میں آنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی کم ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ یا تو بالکل ان پڑھ ہیں یا کم پڑھے لکھے ہیں جبکہ پریشر گروپس ان کی اس حالت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو باآسانی اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کی نظر میں پریشر گروپس کی حیثیت ایک لیڈر کی طرح ہوتی ہے اور پاکستان کے زیادہ تر حصوں میں آج بھی جگیردرانہ نظام اور وڈیرہ کلچر موجود ہے اور جنوبی پنجاب کے لوگوں کے نہ ترقی کرنے کی ایک بہت بڑی وجہ بھی یہی نظام ہے۔
اگر پاکستان کے جمہوری نظام کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے تو حکومتوں کو ان پریشر گروپوں کے سائے سے نکلنا ہوگا تاکہ حکومتیں آزادانہ طور پر بغیر کسی دباؤ کے عوام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر طور پر پالیسیاں مرتب کر سکیں اور بہتر طور پر عوام کی خدمت کر سکیں اور ان کے مسائل بہتر طریقے سے حل کر سکیں۔