ملکی ترقی اور سماجی فلاحی ادارے

از قلم :قمر شہزاد
ہر ملک میں مقامی اور قومی سطح پر سماجی بہبود کے ادارے موجود ہوتے ہیں،، جو کہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنی سرگرمیوں کو سر انجام دیتے رہتے ہیں،، ان سماجی اور فلاحی اداروں میں سے کچھ ادارے عوامی ٹیکسوں کی مدد سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں.جبکہ کچھ ادار ےحکومت کی زیر نگرانی اپنی سرگرمیاں سرانجام دیتے رہتے ہیں.

تاہم کچھ ادارے اپنی مدد آپ کے تحت بھی رضاکارانہ طور پر خدمات سر انجام دیتے ہیں ،اور لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور اس طرح یہ ادارے حاجت مندوں، ناداروں اور مسائل کے شکار لوگوں کے لیے بہت بڑا سہارا ہوتے ہیں.

یہ ادارے کسی بھی ترقی پذیر ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں .ان اداروں کی کامیابی کا دارومدار عوام کی تائید و اعانت پر ہوتا ہے اور عوام کے سامنے ان کے بہتر نتائج لانا بھی بے حد ضروری ہوتا ہے کیونکہ عوام مطعمن ہوں گے تو وہ ادارہ اتنی ہی جلدی ترقی کر سکے گا اور اپنی سرگرمیاں بہتر طریقےسے سرانجام دے سکے گا.

یہ ادارے اس وجہ سے بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں حکومت عوام کو دور دراز علاقہ جات خاص طور پر وہ علاقے جہاں حکومتی مشینری اور نمائندوں کی نظر سے مسائل نہیں گزر پاتے یہ ادارے وہاں جا کر بھی ان لوگوں کی معاشی مشکلات کو نہ صرف حل کرتے ہیں بلکہ ان کو مکمل طور پر ریلیف کی فراہمی کو بھی یقینی بناتے ہیں .جس کی وجہ سے ان اداروں کی اہمیت اور بڑھ بھی جاتی ہے.

نئے شروع کیے جانے والے مختلف قسم کے منصوبہ جات کی تشہیر بھی سماجی فلاحی اداروں کی مدد سے باآسانی ممکن ہو جاتی ہے .ان اداروں کی مدد سے وہ لوگ جو غربت اور تنگدستی کی وجہ سے زندگی سے بیزار ہوچکے ہوتے ہیں ان کے سماجی رویوں میں تبدیلی لانے میں بھی مدد ملتی ہے اور اس طرح لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا ہے یہ ادارے وقتاً فوقتن عوام کے ساتھ رابطہ کر کے ان کے سماجی رویوں کو بہتر انداز میں پروان چڑھا تے ہیں .

اس کے علاوہ ان سماجی اداروں کی مدد سے معاشرہ کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور عوام میں عدم مساوات کے تاثر کو ختم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے اور معاشرے میں باہمی مساوات کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے.

ان اداروں کی سب سے خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ عوام سے کسی نہ کسی طریقہ سے رابطے میں رہتے ہیں اور اپنے منصوبوں میں عام عوام کو شامل کرتے ہیں اس وجہ سے لوگ ایسے اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں. یہ عمل عوام اور اداروں دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے.سماجی فلاحی ادارے کسی بھی معاشرے کے افراد کو ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں مکمل طور پرآگاہی فرااہم کرتے ہیں.جب بھی کسی معاشرے کے لوگوں کو اپنے اصل حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل ہو جاتی ہے تو وہ بہتر طریقے سے اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں.اور یہ کام سماجی فلاحی ادارے بہتر طریقے سے سرانجام دیتے ہیں.لہذا ان اداروں کی حکومتی سطح پزیرائی بے حد ضروری ہے.