بلال یاسین پر قاتلانہ حملہ خطرے کی گھنٹی

از قلم : میراں سلہری
ماضی میں ایسے بہت سے واقعات دیکھنے کو ملتے تھے جس میں ہم سنتے تھے کہ کسی اہم شخصیت پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے مگر خوش قسمتی سے کچھ عرصے سے یہ معاملات تھم گیا تھے اور اعلی شخصیات اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے تھے مگر اچانک سے چند روز پہلے مسلم لیگ ن کے بڑے اہم اثاثے سابق وزیرخوراک پی پی 150 کے ایم پی اے بلال یاسین صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے نتیجے میں بلال یاسین صاحب کو 3 گولیاں لگیں اور وہ بری طرح زخمی ہو گئے اس جبکہ ایک گولی ان کے پیٹ کی سائیڈ سے کراس کرتے ہوئے گزری ایک پیٹ کے اندر ایک ٹانگ پر لگی زخمی حالت میں بلا لی حسین صاحب کو میو ہسپتال منتقل کیا گیا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بلال یاسین اپنے حلقے میں عوام کے مسائل سن رہے تھے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کروا رہے تھے ۔کے اچانک سے دو موٹر سائیکل سوار آئے اور انہوں نے ان پر گولیاں برسائیں اور آگے نکل گئے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ مجرم چند سیکنڈ بعد دوبارہ واپس آئے جب ان کو پکڑنے کی کوشش کی گئی اور وہ بھاگنے میں کامیاب ہوگئے تو ان کا پستول زمین پرگیا یہاں یہ کہنا چاہوں گی کہ یہ بلال یاسین صاحب کی خوش قسمتی اور حملہ آوروں کی بد قسمتی تھی۔
مگر سابق وزیرخوراک پر یہ حملہ خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے
کیونکہ بلال یاسین ایک ایماندار وزیر خوراک تھے ایک ایم پی اے ہیں ان پر ایسے قاتلانہ حملہ کافی کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔کہیں کون لوگ ہو سکتے ہیں جو اس طرح بغض رکھتے ہوئے کسی کو موت کی بھینٹ چڑھانے میں پیش پیش ہیں۔
جہاں تک بلال یاسین صاحب کو جاننے کا تعلق ہے تو اپنے حلقے میں ایک بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں ان کے حلقے کے لوگوں میں ان کے لیے بے پناہ محبت دیکھی ہے اور بڑی بھاری اکثریت کے ساتھ پی پی150 ایک میں انہوں نے میدان مارا تھا اور بڑی باعزت طریقے سے جیتے تھے۔
آپ کی بات تو ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ایم این اے کو جتوانے میں ایک ایم پی اے کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے اور یہ بات ہم نے اس وقت پر دیکھی اپنی آنکھوں سے جب ہم نے بلال یاسین کے ذریعے وحید عالم خان کو بھی اس حلقے میں جیتے ہوئے دیکھا
اگر ان کے حلقے کا تھوڑا سا آپ کو بتاؤ تو یہ این اے 125 جہاں سے پہلے نواز شریف جیتے تھے بطور ایم این اے پھر اس کے بعد کلثوم نواز صاحبہ نے یہاں پر بطور ایم این اے بھاری اکثریت نے میدان مارا۔یہ ہلکا نون لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں پہ ایم پی اے کہ کام مسلم لیگ نون کی جیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اگر اس حلقے کی عوام کی بات کرو تو یہاں کی امام غزالی حسین پر بہت اعتماد رکھتی ہے اور اپنے امیدوں پر پورا اترنے کی وجہ سے وہ کئی عرصے سے بلال یاسین کو اس حلقے سے بھاری اکثریت میں جو آتی رہی ہے اور کسی مخالف پارٹی سے تعلق رکھنے والے بے شک وہ حکومتی پارٹی کے ہی کیوں نہ ہو وہ اس حلقے سے جیتنے کا تصور نہیں کر سکتے۔
اگر ہم حکومتی نمائندوں کی بات کریں تو یہ عوامی نمائندے ہوتے ہیں عوام سے وعدہ کر کے ووٹ لیتے ہیں کہ ہم آپ کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے اور آپ کو ہر طرح کے سہولت فراہم کریں گے مگر بہت سے لوگ بہت سے حکومتی نمائندے جب جیت جاتے ہیں اپنے حلقے سے اس کے بعد وہ اپنی عوام کو بھول جاتے ہیں مگر میں یہاں پر یہ کہنا چاہوں گی کہ بلال یاسین جو کہ موجودہ ایم پی اے اور سابق وزیرخوراک ہیں ان کے اچھے کام ان کا عوام کے ساتھ مثبت رویہ آج بھی ان کی جیت کا سبب بنتا ہے۔
عوام چاہتی ہے کہ ہم اس شخص کو ووٹ دیں جو ہماری خدمت کے لئے آئے ۔
ایک بار جب میں نے بلال یاسین صاحب کا انٹرویو کیا تو میں نے ان سے یہ پوچھا کہ سر آپ کیا سمجھتے کیا سوچ کر عوام کی خدمت کرتے ہیں؟
تو ان کا کہنا یہ تھا جواب میں کہ میں عوام کی خدمت اس لئے کرتا ہوں کہ میں خدا کا کتنا پسندیدہ انسان ہوں کہ خدا نے مجھے خدمت خلق کے لئے چنا ہے ہم اگر باقی سب ایم پی ایز کا موازنہ کریں یا وزیروں کا موازنہ کریں تو ان سے ملاقات کے لیے کئی کئی دن پہلے وقت لینا پڑتا ہے مگر یہ واحد عوامی نمائندے ہیں جن کو میں نے عوام کے لئے ہر وقت حاضر دیکھا ہے اور عوام کی ان تک رسائی بہت آسان ہے ۔
اگر موجودہ حکومت کے وزیروں کی بات کریں تو ان کا تو حال ہی بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ اگر ان سے ملاقات کا وقت مانگا جاتا ہے یا ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ کے حلقے کے بارے میں کوئی بات کرنی ہے تو ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ایسے لگتا ہے کہ وہ کوئی بہت ہی کام میں مصروف ہے جو وقت دینے سے ہی قاصر ہے موجودہ حکومت کے وزراء کی مثال کچھ ایسے ہے looks busy doing .
اگر موجودہ حکومت کے نمائندوں کا موازنہ ماضی کی حکومتوں سے کیا جائے تو ماضی کے حکومت کے نمائندے سو گناہ بہتر تھے کم از کم عوام کو وقت تو دیتے تھے مگر اب وقت یہ ہے کہ ہماری عوام بہت باشعور ہو چکی ہے اور وہ جانتی ہے کہ کون سا نمائندہ ہمارے لیے بہتر رہے گا ۔
یہی وجہ ہے کہ جب بلال یاسین کے ا حلقے میں جاکر وزٹ کیا جائے تو وہاں کی عوام ان کے ایماندار ہونے کا بھی ثبوت دیتی ہے اور آنکھیں بند کر کے ان کے اوپر یقین بھی رکھتی ہے اور یہی کہتی ہیں کہ آئندہ بھی ہمارا ووٹ موجودہ ایم پی اے یعنی بلال یاسین کے ساتھ ہی ہوگا ۔
مگر جیسے بلال یاسین پر یہ قاتلانہ حملہ ہوا اس وقت یہ تمام تر پر اعلیٰ شخصیات کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب بھی اپنے عہدے پر بھی تعینات تھے بطور وزیر خوراک اس وقت بھی ہم نے کبھی ان کو سکیورٹی کے ساتھ نہیں دیکھا تھا ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ حملہ آوروں نے اسی چیز کا فائدہ اٹھایا ہے۔
ہماری دعا یہ ہے کہ خدا پاک سابق وزیرخوراک اور محترم بلال یاسین صاحب کو جلد سے جلد صحت یابی عطا کرے اور وہ ویسے ہی ہم سے بولتے اپنے حلقے کی عوام کی خدمت پہلے سے زیادہ گرم جوشی کے ساتھ سرانجام دے اور ان کی یہی بہادری دشمن عناصر لوگوں کے منہ پر ایک بہت بڑا طمانچہ ہوگی۔۔