حاملہ خواتین میں مصنوعی مٹھاس کا استعمال بچوں میں موٹاپے کا سبب

حاملہ خواتین میں مصنوعی مٹھاس کا استعمال بچوں میں موٹاپے کا سبب

میٹھی چیزیں استعمال کرنے والی حاملہ خواتین کے بچوں میں موٹاپے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
کینیڈا کی کیلگری یونیورسٹی میں ہونے والی اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر ریلین ریمر کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں ہم نے حاملہ چوہوں کو دو مختلف اقسام کی مٹھاس اور پانی استعمال کرایا ہے۔تحقیق میں سائنس دانوں نے حاملہ مادہ چوہوں کو تین حصوں میں تقسیم کردیاگیا، جس میں سے ایک گروپ کو ڈائٹ کوک میں استعمال ہونے والی اسپارٹیم، ایک گروپ کو ڈائٹ سیون اپ میں استعمال ہونے والی اسٹیویا جب کہ تیسرے گروپ کو پانی دیا گیا۔ریسرچر نے ان تینوں گروپ کا مشاہدہ کیا اور وضع حمل کے بعد پتا چلا کہ ایسے مادہ چوہے جنہیں ڈائٹ مشروبات میں استعمال ہونے والی اسٹیویا اور اسپارٹیم جیسی مصنوعی مٹھاس دی گئی، ان میں پیدا ہونے والے بچوں میں فربہی کے ساتھ ساتھ آنتوں کا مائیکرو بایوم ( انسانی آنتوں میں موجود مائیکرو اجسام کا مجموعہ جو جسم کو وائرس کے حملے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے) بھی تبدیل تھا۔پروفیسر ریلین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اگر چہ یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے لیکن اس کے نتائج انسانی ماؤں پر بھی یکساں ہی مرتب ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ حمل کے دوران کھائی جانے والی خوراک بچے کی صحت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حمل میں تمام ڈاکٹرغذایئت سے بھرپور کھانوں کی ہدایت کرتے ہیں۔