لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال جاسوسی کیس، عدالت سے اہم خبر آگئی

لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال جاسوسی کیس، عدالت سے اہم خبر آگئی

دفاعی حکام نے جاسوسی کے جرم میں قید کی سزا پانے والے فوجی افسرکے کیس میں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں جواب جمع کرا دیا۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق جاوید اقبال کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی پنچ میں جاسوسی کے الزام میں اپنی سزا کے خلاف ایک اپیل دائر کر رکھی تھی جس پر عدالت عالیہ نے ڈیفنس اتھارٹیز سے جواب طلب کیا تھا۔ اس جواب میں عدالت عالیہ کو بتایا گیا ہے کہ سابق فوجی افسرلیفٹیننٹ جنرل (ر)جاوید اقبال اسلام آباد فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے سامنے جاسوسی کرنے کا اعتراف کر چکا ہے۔اس جواب میں عدالت عالیہ کو اس مقدمے کے پس منظر سے بھی آگاہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ پٹیشنرپاکستان آرمی کا ریٹائرڈ سینئر آفیسر ہے۔ اس کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ 1962 کی مختلف دفعات کے تحت جاسوسی کے 6الزامات عائد کیے گئے تھے اور تمام الزامات ثابت ہونے پر عدالت کی طرف سے اسے 29مئی 2019ءکو 14سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔پٹیشنر نے قبل ازیں آرمی کورٹ آف اپیلز میں بھی اپیل دائر کی تھی جہاں عدالت نے 25مئی 2021ءکو اس کی سزا میں 7سال کی کمی کر دی تھی۔جواب میں دفاعی حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ”پٹیشنر پاک فوج میں ملازمت کے دوران انتہائی حساس عہدوں پر رہا ہے لہٰذا اس کی سزا معطل کیے جانے سے ریاست کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا۔ مزید براں یہ مقدمہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور پٹیشنر کی رہائی سے خود اس کی جان کو بھی خطرہ ہو گا،کیونکہ ریاست مخالف عناصر اپنے مذموم عزائم کے لیے اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ پٹیشنر کی رہائی سے جاسوس کے مرتکب مجرموں کے متعلق ایک غلط مثال بھی قائم ہو گی، لہٰذا پٹیشنر کا جیل میں رہنا ریاست اور خود پٹیشنر کے مفاد میں ہے۔