سانحہ مری کا اصل ذمہ دار کون ؟

از قلم : انعم منظور
مری پنجاب کے ضلع راولپنڈی کا ایک صحت افزا مقام ہے۔ جو راولپنڈی سے 39 کلومیٹر دور ہے۔ اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 7500 فٹ ہے۔ 1849ء میں پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد انگریزوں کو کسی سرد مقام کی تلاش ہوئی تو مری کے قریب ایک جگہ منتخب کی گئی اور اس طرح 1851ء میں وہاں پہلی بار تعمیر ہوئی۔ 1907ء تک پنڈی سے مری تانگوں پر جایا کرتے تھے۔ جس میں بہت وقت لگ جاتا تھا جبکہ آج کل ہم دو گھنٹے میں مری کا سفر کرتے ہیں ۔یہاں اسپتال، متعدد سکول اور جدید طرز کے ہوٹلز بھی ہیں۔پنجاب کے باقی علاقوں کی نسبت مری میں دسمبر، جنوری اور فروری سرد ترین مہینے ہوتے ہیں ۔ مری کا سیزن مئی سے شروع ہوتا ہے اور عموما ستمبر تک سیاح وہاں رہتے ہیں اور خیر سے واپسی اپنے گھروں کو جاتے ہیں بہت کم حادثات ہیش آ تے ہیں لیکن اس بار برفباری سے لطف اندوز ہونے کیلئے آنے والے سیاحوں کا دورہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر زحمت میں بدل گیا اور اس سانحہ مری میں بہت سی جانیں گئیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس سانحہ کا ذمہ دار کون ہے حکومت یا عوام۔تفریحی مقام مری میں برف میں پھنسے کم از کم 23 افراد کی ہلاکتوں کے بعد جہاں ایک طرف حکومت کی جانب سے سیاحوں کی بڑی تعداد کو سانحے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے تو وہیں اپوزیشن اس سانحے کو حکومت اور انتظامیہ کی نااہلی قرار دے رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق پانچ جنوری کو جاری کیا گیا الرٹ میں یہ بات واضح کی گئی مری میں چھ جنوری سے نو جنوری تک شدید برف باری متوقع ہے لیکن اس کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعداد کے مری پہنچنے اور انتظامیہ کے انھیں اینٹری پوائنٹس پر نہ روکنے پر اپوزیشن رہنماؤں سمیت سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔عمران خان سمیت حکومتی نمائندوں کی جانب سے خراب موسم اور سیاحوں کی بڑی تعداد کو سانحے کی وجوہات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔عمران خان نے اس واقع پر اپنے بیان میں کہا ضلعی انتظامیہ اس صورتحال کے لیے خاطر خواہ تیار نہیں تھی کہ غیر معمولی برف باری اور موسمی حالات کو ملحوظِ خاطر رکھے۔ اُنھوں نے لوگوں کی ‘بڑی تعداد’ کو بھی سانحے کی وجہ قرار دیا اور تحقیقات کا حکم دیا۔ وزیراعظم نے سانحہ مری کی تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ لوگ بغیر موسم کا تعین کیے بڑی تعداد میں مری پہنچ گئے، غیر معمولی برفباری اور بڑی تعداد میں لوگوں کے سیاحتی مقامات کا رخ کرنا سانحہ مری کا باعث بنا۔وزیر داخلہ نے اس واقع کے بارے میں کہا کہ مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں، صرف کمبل، ادویات اور کھانے پینے کا سامان لے جانے والوں کو جانے کی اجازت ہو گی، پیدل جانے والوں کے لیے بھی راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بھی بہت سی سیاسی شخصیات کے بیانات سامنے آئے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ اپوزیشن نے بھی بہت سے بیانات دیے ہیں۔سانحہ مری کےبعد اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی سیاح کبھی بھی ایسے ملک میں نہیں آئیں گے۔ ہر کوئی اس پوری صورتحال کو مختلف نکتہ نظر سے بھی دیکھ رہا ہے ترجمان پنجاب پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ مری کی 90 فیصد سڑکیں کلیئرکرا لی گئی ہیں، گاڑیوں سے بچوں اور فیملیز کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ شہریوں کو خوراک، ادویات،گرم کپڑے فراہم کیے جارہے ہیں، مری میں ایک لاکھ 57 ہزارسےزائدگاڑیاں داخل ہوئیں۔مری میں سیاحوں کی خالی گاڑیاں برف میں پھنسی ہیں جو نکالی جا رہی ہیں، ایکسپریس ہائی وے مکمل طور پر کلیئر ہیں، گلڈنہ سے باڑیاں تک روڈ سے برف ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس موسم میں ہماری حکومت کو بھی اقدامات کرنے چاہیے اور لوگوں کو بھی چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس طرح کی سیاحتی مقامات پر جائیں