!!! آپ نے گھبرانا نہیں ہے!!!

تحریر (مبشر سندرانہ)
آخر کار کشتی وہاں آ کے ڈوبی جہاں پانی موجود تھا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن کے میدان میں 16 درجے ترقی کے ساتھ ایک سو چوبیسویں نمبر سے ایک سو چالیسویں نمبر پر آگیا ھے،مشرف دور میں پاکستان کرپشن کے لحاظ سے 138نمبر پر تھا جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 11درجے بہتر ہو کر 127ںمبر پر آیا پھر ن لیگ کے دور حکومت میں 10 درجے بہتر ہو کر 117نمبر پر آیا تھا جبکہ کرپشن فری کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی کی حکومت میں صرف تین سالوں میں وہی کرپشن 23درجے گرنے کے بعد 140نمبر پر آ پہنچی ہے،وزیراعظم عمران خان صاحب پچھلے کئی سالوں سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس کے معتبر ہونے کی تصدیق بھی کر چکے ہیں یاد رہے کہ کرپٹ دور حکومت میں عوام کو اس کا خمیازہ مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں ادا کرنا پڑ تا ہے جو ہم عوام ادا کر رہے ہیں آج ملک میں آٹا ،چینی،گھی،سبزیاں،دالیں عوام کی پہنچ سے دور ہو گئیں ہیں مہنگائی سے ستائی عوام کے لئے دو وقت کی روٹی کمانا اور کھانا مشکل ہو چکا ہے ملک میں آئے روز کبھی چینی کبھی پیٹرول اور کبھی کھاد بحران سر اٹھا لیتا ہے جبکہ ہمارے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزیر، مشیر سیاسی مخالفین پر لان تان کے سوا کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکے، 2018سے پہلے کی عمران خان کی ساری کی ساری سیاست یہ ہے کہ میں انہیں نہیں چھوڑوں گا میں انہیں رولاوں گا،پھر 2020میں دو سال گزرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ اب یہ عمران خان کا نیا روپ دیکھیں گے،پھر اب 2022 میں آ کر کہہ رہے ہیں کہ میں اپوزیشن میں آ کے اور خطرناک ہو جاؤں گا،کیا پی ٹی آئی کا یہی منشور ہے؟عوام کو بد عنوانی مہنگائی اور کرپشن سے چھٹکارا کب ملے گا؟ اگر آپ نے بدلے ہی لینے تھے تو عوام کو حسین خواب کیوں دکھائے جو پورے تو نہیں کئے بلکہ ملک کو مزید مہنگائی،بیروزگاری اور کرپٹ نظام میں جکڑ دیا گیا ہے،بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی تین پوائنٹس کم ہونے کے بعد 124 سے گِر کر 140 تک پہنچ گئی ہے۔گذشتہ 11 برسوں میں یہ پاکستان کی سب سے بُری درجہ بندی رہی ہے۔اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے لیے بدعنوانی جانچنے والے 13 مختلف سروے اور کم از کم تین مختلف ڈیٹا ذرائع کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ معلومات اکٹھا کرنے والے ادارے عالمی طور پر معتبر سمجھے جاتے ہیں، جیسا کہ ورلڈ بینک اور ورلڈ اکنامک فورم وغیرہ، پاکستان کے اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے ورلڈ بینک، ورلڈ اکنامک فورم، اکنامک انٹیلیجنس یونٹ وغیرہ جیسے اداروں کی رپورٹس کا استعمال کیا گیا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ممالک کے لیے ان کا انفرادی سکور شمار کیا جاتا ہے جس کے بعد ان کی درجہ بندی مرتب کی جاتی ہے۔سکور کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کے پبلک سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں عوامی تاثر کیا ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی ملک کا سکور صفر ہے تو وہ انتہائی کرپٹ ملک ہے اور اگر 100 ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں بدعنوانی بالکل نہیں ہے۔اسی سکور کی بنیاد پر ملکوں کی درجہ بندی طے کی جاتی ہے اور اگر فہرست میں ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو تو درجہ بندی تبدیل ہو سکتی ہے۔چناچہ اس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ بندی سے زیادہ کسی بھی ملک کے سکور کی زیادہ اہمیت ہے جو کسی بھی ملک میں ہونے والی بدعنوانی میں اضافہ یا کمی کو جانچتا ہے۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے گذشتہ سال کافی بُرا رہا ہے اور سنہ 2015 کے بعد پہلی بار پاکستان کا سکور 30 سے بھی کم ہو گیا ہے۔وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی رابطہ کاری شہباز گل نے ٹوئٹر پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس رپورٹ کے لیے استعمال ہونے والا ڈیٹا گذشتہ حکومتوں کے ادوار یعنی 2017، 2018 اور 2019 میں شائع ہوا اور اس سے بھی پہلے جمع کیا گیا۔اُنھوں نے رپورٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹس کے ایک سلسلے میں اپوزیشن کے سیاسی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف دو اداروں کی ریٹنگ کی وجہ سے پاکستان کے سکور میں تنزلی کی گئی۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی اُمور بابر اعوان بھی جمعرات کی شام اپنی ایک پریس کانفرنس میں یہی دعویٰ کرتے نظر آئے۔تاہم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے رپورٹ کی تیاری میں جس دور کا ڈیٹا استعمال کیا ہے اس دور میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت برسرِ اقتدار تھی۔رپورٹ کے ساتھ جاری کی گئی فائلز میں ادارے نے ایسی رپورٹ کی تیاری کے طریقہ کار کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی نائب چئیرپرسن جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال نے اس رپورٹ کے بارے میں کہا کہ ’قانون اور ریاست کی بالادستی کی عدم موجودگی پاکستان کے کم سکور کی وجہ بنی ہے۔اس کے علاوہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چئیرپرسن ڈیلیا فریرا روبیو نے بھی اس رپورٹ کے بعد کہا کہ ’آمرانہ سوچ بدعنوانی کو روکنے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔پڑوسی ممالک پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ انڈیا نے اپنی گذشتہ سال کی درجہ بندی اور سکور کو برقرار رکھا ہے۔ انڈیا کا سکور 40 جبکہ درجہ بندی میں وہ 85ویں نمبر پر ہے۔بنگلہ دیش نے بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھی جس کے بعد اُن کا سکور 26 جبکہ درجہ بندی 147 ہے۔چین نے البتہ ملک میں کرپشن کے خلاف جنگ کو جاری رکھا اور گذشتہ برس کے مقابلے میں اُن کے سکور میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔پچھلے سال کی رپورٹ میں 42 پوائنٹس کے بعد ان کی درجہ بندی 78 تھی جبکہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چین کا سکور بڑھ کر 45 ہو گیا ہے جس کے بعد درجہ بندی میں وہ 66ویں نمبر پر ہے۔