اس مہنگائی نے کیا عوام کا جینا محال

تحریر :انعم منظور
اس مہنگائی نے عوام کا جینا محال کردیا ہے ۔پاکستان کا نوجوان بے روزگار ہے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس مہنگائی کی وجہ سے روزمرہ کی اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں اور روزمرہ کی اشیاء ان کی پہنچ سے دور ہیں عوام بھوک سے مر رہی ہے ہے مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے آج کے دور میں مہنگائی اور بے روزگاری سب سے اہم مسائل ہیں آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور بیروزگاری میں بھی اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔
آئے روز وزیراعظم کی طرف سے بیانات آتے رہتے ہیں کہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے گا لیکن یہ دعوے صرف دعؤو ں کی حد تک ہیں وزیر اعظم عمران خان کا سیاسی بیانیہ تو یہی ہے کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے لیکن اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں دن بدن مہنگائی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔جس کی وجہ سے عوام بہت پریشان ہے
یہ مہنگائی عوام کی برداشت سے باہر ہو رہی ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو ایک طرف ملک کو پیشہ ورانہ مہارت کے حاصل ہنر مند افراد کی ضرورت ہے تو دوسری طرف نوجوان لڑکے لڑکیوں کی بڑی تعداد ڈگریاں ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں
لیکن اس کا جواب ہری پور میں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اور پشاور خیبر پختونخوا کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے گفتگو کے دوران اس صورتحال کا تجزیہ لیتے ہوئے انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ تعلیمی اداروں میں نوجوان جو کچھ بھی پڑھ لکھ کر آتے ہیں وہ ہماری مارکیٹ کی ضرورت سے میچ نہیں ہوتا۔
ہماری مارکیٹ کو جس چیزوں کی ضرورت ہے طالب علم وہ سب چیزیں اپنی تعلیم میں نہیں پڑھ کر آتے۔لیکن انھیں اس بات کا حل بھی بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع مہیا کرنا ہمارے لیے بہت بڑا چلینج ہے اور تعلیم ٹیکنالوجی آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دے کر اس پر قابو پایا جا سکتا ہےاور ہم بات کر رہے ہیں مہنگائی کی تو ہمارے ملک میں آٹا مہنگا دالیں مہنگی چینی مہنگی چاول مہنگا پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ جب نہرو وزیر اعظم بنے تو میں مہاتما گاندھی کے پاس گے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے تو انہوں نے کہا تم اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو یہ تین کام کبھی نہ کرنا آٹا مہنگا کبھی نہ کرنا سائیکل کی قیمت نہ بڑھانا اور سینما کی ٹکٹ کبھی مہنگی نہ کرنا آج بھی اگر بھارت میں دیکھیں تو وہاں آٹا سستا ہے۔سائیکل سے سینما گھروں کی ٹکٹیں سستی ہیں۔لیکن ہمارے ملک میں تو یہ سب چیزیں سر چڑھ کر بولتی ہیں۔تو ملک کیسے ترقی کرے گا۔

تاہم اگر مشاہدہ کیا جائے تو بات ہی یہ ہے کہ حکومت ایک طرف یقینً کوشش کر رہی ہے مہنگائی کم ہو جائے اور عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں لیکن حکومت آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے حصول کے لیے ان کی ایسی شرائط پر عمل کر رہی ہے جن کے نتیجے میں مہنگائی کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
لیکن عوام کو ان سب سے کوئی غرض نہیں عوام کو صرف اس چیز سے غرض ہے جو اس کی ضروریات میں شامل ہیں کہ وہ کس حد تک سستی ہیں یا وہ مہنگی ہیں۔کیونکہ وہ جب بازار میں کچھ خریدنے جائے گا اور اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے گا تو اس کی ہمت وہی جواب دے جاتی ہے کیونکہ ایک عام آدمی کو نہیں پتا کہ آئی ایم ایف کیا ہے ہماری جی ڈی پی ریٹ کیا ہے اسے صرف اپنی پیٹ پالنے سے مراد ہے وہ صرف آٹا دال چینی دالیں چاول اور پیٹرول جانتا ہے اور تو اور یہاں تو بچوں کا دودھ بھی مہنگا کردیا ہے منی بجٹ میں بہت سی کھانے پینے کی اشیاء پر سترہ فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز دی تھی ان میں سے بچوں کا دودھ میں شامل ہے۔تو کیا کیا جائے ایسے ملک کا جہاں بچوں کا دودھ تک مہنگا ہو گیا ہو ہر پیدا ہونے والا نیا بچہ اپنے سر قرضہ چڑھا کر جنم لیتا ہے یہ ہے پاکستان۔ہماری حکومت کو کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے جن کے نتائج زمین پر نظر آئے۔کیونکہ مہنگائی اور بیروزگاری پر ایسے ہی قابو پایا جا سکتا ہے