پاکستان اور ایران تعلقات میں فروغ کے لئے سرگرم عمل۔

تحریر: شبیر احمد شگری
یہ اقدام خوش ائند ہے کہ پاکستانی تجارتی وفد ایک ہفتے کے دورے پر لاہور سے ایران روانہ ہو چکا ہے۔ جوکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی فروغ کے لئے اہمیت کا حامل ہے ۔یہ وفد تہران،اصفہان،مشہد اور زاہدان میں کاروباری افراد سے ملاقاتیں کرے گا۔ انملاقاتوں میں بالخصوص پنجاب اور ایرانی صوبوں کے درمیان اقتصادی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اورتجارتی تعلقات کو بڑھانے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔چیمبر آف کامرس لاھور کے صدر کے مطابق اس دورے کا مقصد دو طرفہ تجارتی تعاون کومظبوط بنانا ہے ۔ اس موقع پر قونصل جنرل ایران لاہور کا کہنا تھا کہ لاہور کا چیمبر آف کامرس پاکستان کا مظبوط چیمبر ہے ۔ اور لاہور چیمبر کا وفد تہران چیمبرکی دعوت پر ایران کا دورہ کررہا ہے ۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے وفد کا ایران کا دورہ اس وقت اہمیت کا حامل ہے ۔ جس سے یقیناًدونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کو فروغ حاصل ہوگا۔ کیونکہ تجارت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔امیدہے کہ یہ تجارتی وفد مفید تجارتی قدامات کے ساتھ لوٹے گا۔
دینی، جغرافیائی، ثقافتی، سیاحتی ، تجارتی یا سرحدی، چاہے کوئی بھی رشتہ ہو پاکستان اور ایران قدیم روابط میں جڑے ہوئے ہیں۔ ان برادرانہ تعلقات کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اور پاک ایران دوستی اور برادرانہ تعلقات کا شجر روز بروز تناور اور ثمر آور ہوتا جارہا ہے۔ خصوصاً موجودہ صورت حال میں دونوں ممالک کے تعلقات اورباہمی اقدامات جغرافیائی لحاظ سے اس پورے خطے میں تبدیلی کی طرف اشارہ دے رہے ہیں۔پاکستان اور ایران دو ایسے ہمسایہ اور برادر اسلامی ممالک ہیں جن کی ایک طویل سرحد موجود ہے ۔ بظاہر ایران پر موجود اقتصادی پابندیاں اور بین الاقوامی دباو کی وجہ سے ایران کے ساتھ تجارت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اگر پاکستان ہمت کرے اور ایران کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی معاملات پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہو تو ہماری بہت سی مشکلات آسان ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی کوششیں جاری ہیں۔ مزید بہتر تعلقات سے دونوں ممالک بہت سے بحرانوں سے باہر نکل سکتے ہیں۔ یہ انتہائی افوسناک امر ہے کہ ہمارے پڑوسی اور برادراسلامی ملک میں تیل، گیس بجلی ہر چیز وافر مقدار میں موجود ہے لیکن اغیار کے دباو میں ہم اس سے استفادہ نہیں کرسکتے ۔ دشمن تو چاہتا ہی یہی ہے کہ اسلامی ممالک کبھی آپس میں متحد نہ ہوسکیں۔ مگر ہم کیا کر رہے ہیں کتنے سال بیت گئے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائین طوالت کا شکار ہے ۔ ایران نے پاکستانی سرحد تک گیس پائپ لائین بھی بچھا رکھی ہے ہمارے دروازے پر گیس موجود ہے ۔ لیکن ہمارے گھروں میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ ایران میں پٹرول 8 روپے لیٹر ہے جبکہ ہمارے ہاں آئے روز اس میں اضافہ ہی ہوتا آرہا ہے ۔ اسی طرح ہمیں فخر ہے کہ ہمارا دوست ملک ایران جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا اور ہمیں گیس، بجلی پٹرول دیگر مصنوعات کی برادرانہ پیشکش کرتا رہا ہے ۔ لیکن نا معلوم کونسے عوامل ہیں جو ہمیں ان نعمات سے روکے ہوئے ہیں اور مہنگائی کی دلدل میں پھنسے جارہے ہیں۔ ایران کی پیشکشیں اپنی جگہ لیکن وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس پر غورکریں اوراہم اقدامات کریں۔ ایران اور پاکستان تجارت کے حوالے سے ایک دوسرے کی ضروریات کو مکمل کرسکتے ہیں جوکہ مختلف شعبوں بشمول سامان کی نقل و حمل، بارٹر سسٹم کے ذریعے مصنوعات کی لین دین، ٹیرف میں کمی اور سرحد پار مارکیٹوں کے نفاذ میں تعاون کو فروغ دے کر بہت سے مسائل کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔
اس وقت دونوں ممالک کے درمیاں سرحدی ٹرمینلز، ریل ٹرانسپورٹ، سڑکیں اور مارکیٹیں دوطرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے میں مدد دینے کا ایک اچھا موقع اور ماحول دستیاب ہے ۔ ایران سے پاکستان اور پھر ترکی سے ٹرین کے ذریعے تجارت کا آغاز بھی کیا گیا ہے جس کا دائرہ یورپ تک پھیلایا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستانی ٹرکوں کی ایران سے ترکی اور یورپ تک آمدو رفت کے ساتھ ساتھ ایرانی ٹرکوں کی پاکستان اور چین آمدورفت بھی زیر بحث ہے ۔ اسی طرح دونوں برادر ممالک میں سرمایہ کاری اور اقتصادی میدانوں میں بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں۔
یہ بات خوش آیند ہے کہ موجودہ حکومت بھی اس پر کوشش کررہی ہے ۔ عمران خان ایران کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔ عمران خان نے خطے کے ممالک بالخصوص علاقے میں اہم کردار ادا کرنے والے ملک ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ پر زور بھی دیا ۔اس کے علاوہ مختلف وفود کے تبادلے بھی ہورہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے گہرے اور بڑے پیمانے پر تعلقات بھی قائم ہورہے ہیں اور دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان بدستور ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ دونوں برادر ممالک کے درمیاں سیاسی، دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں اچھے تعلقات بنے ہیں۔ نئی سرحدی گزرگاہوں کے ساتھ ساتھ سرحدی بازاروں کی تعمیر اور نفاذ کے ذریعے اقتصادی تعلقات پر بھی زور دیا جارہا ہے ۔
پاکستان کے صدر عارف علوی نے بھی ترکمانستان میں منعقدہ ای سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کے ساتھ ملاقات کی اور اس دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بارٹر سسٹم کے ذریعے تجارت کے نفاذ اور اقتصادی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اجلاسوں کے انعقاد پر زور دیا ہے ۔ حال ہی میں ایرانی صوبے سیستان اور بلوچستان کی سرحد سے منسلک صوبے کے طور پر بلوچستان کے بندرگاہی شہر گوادر میں منعقدہ اجلاس میں پاکستانی صدر عارف علوی ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت کے لیے مقامی کرنسی (قومی کرنسی) کے استعمال پر سنجیدگی سے عمل کرنے پر زور دے چکے ہیں۔ اس سلسلے میں صدر پاکستان نے پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر کے ساتھ ساتھ نیشنل ریونیو آرگنائزیشن (ایف بی آر) کے چیئرمین کو مقامی کرنسی کے ذریعے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت کے لیے تمام ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت دی ہے جو کہ خوش آیند ہے ۔ کیونکہ ایران کے اوپر اقتصادی پابندیوں کی وجہ دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس میں سب سے بڑا مسئلہ دوسرے ممالک کے مابین بینکنگ نظام کا ہے ۔ تاہم ایران اور پاکستان کے درمیان بالخصوص بینکنگ کے شعبے میں برادرانہ تعلقات کے فروغ کے لئے بھی کوششیں ہورہی ہیں۔ ایران و پاکستان کے درمیان طویل سرحد اور مختلف قسم کی مصنوعات کے پیش نظر سرحدی منڈیوں کا قیام دونوں ملکوں کے مابین اقتصادی و تجارتی تعلقات کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے ۔
مشترکہ سرحدی بازاروں کے قیام سے ایران اور پاکستان کے درمیان سالانہ پانچ ارب ڈالر کا خواب پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ان سرحدی بازاروں کے قیام سے نہ صرف تجارت میں اضافہ ہوگا جبکہ غیر قانونی سمگلنگ کی بھی روک تھام ہو گی۔
حال ہی میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر داخلہ بھی کہہ چکے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف سیاسی، دفاعی اور سیکورٹی تعلقات کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے پاکستان اور ایران میں موجودہ صلاحیتوں کے پیش نظر دو پڑوسی ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کا فروغ بہت ضروری ہے ۔
پاکستان اور ایران دو ایسے برادر ممالک ہیں جن کی نہ صرف طویل سرحد ملتی ہے بلکہ دونوں ممالک کی عوام کے دل ایک دوسرے کے لئے دھڑکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سی ایسی وجہ ہے جس کی وجہ سے دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں وہ قربت نہیں ہے جوکہ ہونی چاہئے ۔ درحقیقت پاکستان اور ایران کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن جب بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام آنے لگتا ہے تو کوئی نہ کوئی ایسی سازش کی جاتی ہے اور ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے کہ ان ممالک کو ایک دوسرے کا مخالف بنا کر پیش کیا جائے اور یہ حرکتیں اسلام مخالف دشمنوں کے علاوہ اور کون کرسکتا ہے جو کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ پاکستان اور ایران اوراسی طرح دوسرے اسلامی ممالک آپس میں اکھٹے ہوں۔ اگر ایسا ہوگیا تو ان کی دال کیسے گلے گی۔ لیکن ہمیں سنجیدگی سے اس پرسوچنا ہوگا ہمیں اپنے ملک کی خاطراپنے مسائل حل کرنے کے لئے جرات مندانہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان نقل وحمل کے شعبے میں تجارت کو بڑھانے ، بارٹرٹریڈ میں اضافے ، مشترکہ سرحدی منڈیوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ٹیرف کو کم کرنے کی پیشکش بھی ہوتی رہی ہیں۔ دونوں ممالک پہلے ہی اسٹریٹجک تعاون پر منصوبہ بندی اورمعاہدے کر چکے ہیں لیکن اب تک صرف ان پرعمل درآمد کا فقدان ہے ۔
ایران میں اسلامی حکومت قائم ہوئے 43سال گزر چکے ہیں طاغوتی قوتیں پورے ایڑی چوٹی کا زور لگا چکی ہیں لیکن ایران کا کچھ نہیں بگاڑسکی ہیں سوائے اس کے کہ اس ملک پر اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں اور اسے مجبور کیا جائے ۔ لیکن وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے ۔ کیوں کہ ایرانی قوم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کران پابندیوں کویکسر ٹھکرادیا اور بہترین اقدامات سے اپنے پاوں پرمحکم کھڑی ہوچکی ہے ۔ اللہ کا شکر ہے ہم بھی مسلمان ہیں اورآزاد قوم ہیں۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے دباو ہوا ہو یا کوئی اور وجہ بہرحال ان معاملات میں ہماری طرف سے بھی سست روی اختیار کی گئی ہے ۔ ٍامید ہے کہ ہماری حکومت بھی جیسا کہ اس کے ارادوں سے ظاہر ہے ، کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر صرف اپنے ملک کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے ہمسایہ برادر ملک کے ساتھ سیاسی، اقصادی، تجارتی، سیاحتی، ثقافتی تعلیمی میدانوں میں بھرپور تعلقات پیدا کرے گی۔ اور ہم ایک دوسرے کے تعاون سے بہت سے معاملات کو فروغ اور استحکام دے سکتے ہیں۔ دونوںممالک نہ صرف اپنے لئے بلکہ پورے خطے میںتبدیلی کا اہم سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ صرف ارادوں سے نکل کر عملی اقدامات بھی کئے جائیں۔