صدارتی نظام

تحریر: انعم منظور
صدارتی نظام کے نام سے کچھ لوگ ایسےاچھلتے ہیں لگتے ہیں جیسے یہ ان کی چھیڑ ہو۔سپریم کورٹ نے ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے سے متعلق درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا تھاسپریم کورٹ نے کہا صدارتی نظام جب بھی آیا نقصان ہوا،عوام سے ظلم ہوا،ملک ٹوٹا۔لیکن اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔صدر کو براہ راست عوام سے ووٹ لے کر آنا چاہیے اس سے بھی وفاق مزید مضبوط ہوگا ایوب خان کا صدارتی نظام جیسا نہیں ہونا چاہیے جہاں “ایبڈو” اور “کونسلرز” نے انہیں “طاقت” کے استعمال کے بعد مجبورا ووٹ دیے۔صدر کو اپنی حکومتی ٹیم امریکہ کے طرز پر باہر سے لینے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے وہ چاہے تو کوئی دو چار دانے پارلیمنٹ سے بھی لے لے سینٹ کو برابری کی نمائندگی کے تحت مکمل بااختیار بنایا جائے۔اسی طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ میں لوگ صرف قانون سازی،پالیسی میکنگ اور پارلیمانی اوور سائٹ کے لئے آئیں وہ نالی،پل،پلی ،سڑک،نوکریوں اور حلقوں کے لیے وزیروں کے پاس بھاگ دوڑ نہ کر رہے ہوں۔گزشتہ سے پیوستہ صدارتی نظام کے بعد کارپوریشنز کمپنیوں اور دیگر اداروں کے حوالے سے مضبوط نظام ترتیب دیا جائے۔پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر ایڈمن اور فنانس والے خرچ کے براہ راست ذمہ دار ہوں بورڈ بنائیں تین ماہ کے بعد تین دن اجلاس ہو اس میں پالیسی پر عملدرآمد،ٹارگٹس فنانشل شیٹ دیگر اخراجات اور شکایات پر بات ہو۔ٹرانسفر،پوسٹنگ،ترقی، مینیجمنٹ کا اختیار ہو بورڈ میں کوئی سرکاری افسر نہ ہو اور نہ ہی کوئی حاضر سروس کاروباری تا کہ مفادات کی کشمکش کا سوال ہی نہ ہو۔وزارت بورڈ کو میٹنگ کے بعد جواب طلبی کرے،اگلے روز وزارت میں اجلاس بھی بلائے،یہ جو اہم ترین شوق اسلام آباد طلبی کا ہے یہ ختم ہونا چاہیے ہر منیجمنٹ کمیٹی کو کسی بھی قسم کی براہ راست خریداری کا اختیار ہو وہ صرف ٹھوس وجوہات فنانشل اور فوائد بتائیں اور اسے بورڈ میں نہیں جانا چاہیے۔موجودہ صوبائی ماڈل ختم کردینا چاہیے اس کی جگہ پر مضبوط مرکز کے ساتھ سب سے بڑا انتظامی یونٹ تحصیل اور سب سے چھوٹا یونین کونسل ہونا چاہیے۔ٹاؤن کا ماڈل پہلے ہی ضلعی حکومتوں کے تحت موجود ہے اس کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے تحصیل ٹاؤن پر مشتمل ہو اس کی نئی اور مضبوط حدبندی بہت سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے اس میں یونین کونسل کی تعداد بڑھا کر وہاں پر تحصیل ٹاؤن اسمبلی قائم کر دی جائے۔اگر ہم بات کریں کہ مرکز کے پاس پورے ملک کا چھ ہزار ارب کا ترقیاتی بجٹ ہے تو اس میں سے تین ہزار بوری تحصیل یا ٹاؤن کو منتقل کرے اور تین ہزار ارب میں سے1500 ارب یونین کونسل کو منتقل کردیے جائیں۔جبکہ تحصیل اور یونین کونسل کا کم از کم پچاس سال کا منصوبہ ہونا چاہیے جس میں پانی،زراعت،تعلیم،ڈیٹا بینک،کھیل،سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری،انفراسٹرکچر،نکاسی آب،مقامی پولیس اور سروسز،سوشل سروس کا مضبوط نظام،سب سے اہم اس میں سے یہ ہے کہ تعلیم سے فراغت کے بعد دو سال کی لازمی سوشل سروس کا ماڈل جس میں اچھا وظیفہ،بہترین پرفارم کرنے والی یونین کونسل اور تحصیل ٹاؤن کے لیے اضافی ترقیاتی فنڈز،بہترین ماڈل بن سکتے ہیں تحصیل یا ٹاؤن اپنی بجلی گیس کی ضروریات خود طے کریں اور تحصیل یا ٹاؤن ایک دوسرے سے ٹریڈ کریں جس کے تحت آن لائن فاسٹ ٹریک ٹریڈ ہو۔کسان اور صارف کو فائدہ پہنچے۔پروفیشنل کے علاوہ مخصوص کمپنیاں مدت کا حکومت کی مرضی سے آڈٹ ہونا چاہیے۔جب کہ اگلے پانچ سالوں میں نجکاری کے پچاس فیصد ٹارگٹ حاصل کیا جائے۔51 فیصد شیئرز بچے جائیں پھر اگلے مرحلے میں کتنے شیر بیچنے ہیں اس کا فیصلہ صدارتی انتخابات میں عوام سے لیا جائے۔اور اب ہم بات کرتے ہیں “سول سروس”کی تو “سول سروس” اسٹرکچر مضبوط کیا جائے اس کا موجودہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ختم کرکے مضبوط اور پروفیشنل “سروسز ڈویژن” بنایا جائےجہاں کوئی بیوروکریٹ ماسوائے سیکرٹری کے نہ ہو اور سیکرٹری تین سے پانچ سال کے لیے آئے ملک سے حلقے ختم کر کے متناسب نمائندگی کے تحت عام انتخابات ہوں جبکہ سینیٹ کے اراکین بھی براہ راست آئیں بیلٹ پیپر،صدر،سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہوں پارٹی،نشان،تصویر اور پرچم موجود ہو۔صدر اور ان کی کابینہ پارلیمنٹ کو جواب دہ ہو۔پارلیمنٹ ہاؤس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں سال میں ایک بار پارلیمانی لیڈروں سے اکٹھی اور الگ الگ ملاقات ضرور کرے۔اس کے لئے دو سے تین دن مختص ہوں جبکہ صدر چاہے تو ہنگامی صورتحال میں وہ پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس طلب کر سکتا ہے اس میں شرکت لازمی قرار دی جائے۔ججز کی تقرری پارلیمنٹ کا اختیار ہو ججز بار کی بجائے براہ راست ججز سے مکمل راستہ طے کر کے آئیں اسی طرح باقی صدر کی مختلف عہدوں پر تقرریوں کا اختیار بہت واضح ہونا چاہئے۔سیکرٹری کا تقرر، سوفیصد،سروسز ڈویژن کا ہو۔
جب کہ ترقی بھی اسی کے پاس ہوئی کریئر پلاننگ کرے تعلیمی کیریئر،اس میں اضافہ، اہم پوسٹنگ،کامیابیاں،اے سے آر،سرویسز بورڈ،ان کے نمبروں کی تقسیم اور بنچ مارک بہت واضح ہونے چاہئیں۔میری رائے کے مطابق جمہوری پارلیمانی نظام اس ملک کو نتائج دینے میں مکمل ناکام ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دو ہزار دو سے اب تک ان بیس سالوں میں یہ اپنی جاذبیت مکمل طور پر کھو چکا ہے۔پارلیمنٹ ڈبیٹنگ کلب میں تبدیل ہوگئی ہے جہاں جوتوں اور گالیوں سے نوازا جاتا ہے۔طاقت اور پیسے کا بے تحاشہ استعمال بڑھ گیا ہے جبکہ صوبوں نے دوسرے صوبوں اور اپنے اندر مختلف علاقوں،قومیتیوں میں ناانصافی کی بے انتہا،ناقابل یقین مثالیں قائم کی ہیں اگر صوبائی سندھ کی بات کریں تو سندھ کے حکمران قیام پاکستان سے پانی چوری کا واویلا کر رہے ہیں اور میں بلوچستان کے کسانوں کی بات نہیں سننے کو تیار۔مرکز صرف تماشا دیکھتا ہے ہے سرکاری وسائل کی لوٹ مار لگی ہوئی ہے ۔سرکاری وزراء اور ان کی مجبوریوں میں کی جانے والی تقریریوں نے ریاست اور حکومت دونوں کو لاغر کر دیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ نظام میں بڑی خرابیاں ہیں یہ ٹھیک نہیں چل رہی اس کے ذمہ دار ہمارے سیاستدان ہیں جو کوئی بھی اقتدار میں آتا ہے وہ لمحہ موجود پر یقین رکھتا ہے۔اسے ذاتی مفاد ملکی مفاد سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں پچھلے الیکشن میں جو خرچ کیا اسے پورا کرنا ہے۔یہی صورتحال رہی تو یہ ملک مفلوج ہو جائے گا۔کہتے ہیں آزمائے ہوئے کو کتنی بار پھر آزمایا جا سکتا ہے ہم مقتدر قوتوں پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ مداخلت کرتی ہے خان نے امپائر کی بات کی تھی حقیقت یہ ہے کہ جس قسم کا کھیل وطن عزیز میں کھیلا جا رہا ہے وہاں پر امپائر کی موجودگی ناگزیر ہے