ملک بھر میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا

سندھ اور بلوچستان میں پانی کا بحران شدید ہوگیا ، دریائے سندھ خشک ہوگیا۔ نہروں میں پانی نہ ہونے سے کھڑی فصلوں کا نقصان ہوگیا۔خشکی اتنی بڑھی کہ دریائے سندھ میں ریت اڑنے لگی۔ سندھ میں پانی کی مجموعی کمی 57 فیصد ہوگئی۔ گدوبیراج پر پانی کی کمی 91 فیصد ہوگیا اور سکھربیراج پر48 فیصد پانی کم ہوگیا جب کہ کوٹری بیراج پر پانی کی کمی 69 فیصد ریکارڈ ہوئی۔سندھ کے بیراجوں پر پانی کی صورتحال مزید خراب ہوگئی اور مجموعی طور پر تینوں بیراجوں میں پانی کی کمی میں آرہی ہے۔ گڈو بیراج کو اس وقت 100 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے اور سکھر بیراج پر 52 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے جب کہ کوٹری بیراج پر پانی کی کمی 70فیصد ہوگئی ہے۔کراچی کے پانی کے قدرتی ذخیرے کینجھر جھیل میں پانی کی سطح گھنٹنے لگی۔ کینجھر جھیل میں پانی کی سطح میں بدستور کمی جاری ہے۔ جھیل کی انتہائی سطح 54 فٹ سے کم ہو کر 48 فٹ پر پہنچ گئی۔ جھیل کا لیول 42 فٹ ہونے پر کراچی کو پانی کی فراہمی بند ہوجائے گی۔سندھ میں پانی کم ہوا تو بلوچستان میں میں پانی کی شارٹج ہونے لگی۔ بلوچستان والے بارش کی دعائیں مانگنے لگے۔پنجاب بھی پانی کی کمی کا شکار ہوگیا، مظفرگڑھ، کوٹ ادو ہیڈ تونسہ بیراج پر پانی کی سطح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جب کہ مظفرگڑھ کینال میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔دوسری جانب پنجاب میں حکام نے پانی کی چوری پر بھی نظریں جمالیں۔ کسانوں کو فصلوں کےلیے پانی دینے کی یقین دہانی۔