متحدہ عرب امارات میں ریت کا طوفان، دنیا کی بلندترین عمارت برج خلیفہ اوجھل

متحدہ عرب امارات میں ریت کا طوفان، دنیا کی بلندترین عمارت برج خلیفہ اوجھل

مشرق وسطیٰ کے ممالک آج کل ریت کے طوفانوں کی زد میں ہیں۔ سعودی عرب، عراق، کویت، ایران اور دیگر ممالک کے بعد گزشتہ روز ریتیلے طوفان نے متحدہ عرب امارات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دبئی میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ بھی ریت کی سرمئی تہہ میں گم ہو کر رہ گئی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ روز متحدہ عرب امارات میں آنے والے ریت کے طوفان کے بعد 2716 فٹ بلند برج خلیفہ جس کے ٹاور پورے دبئی میں نظر آتے ہیں، گرد و غبار میں چھپ گیا۔متحدہ عرب امارات ریت کے طوفانوں سے متاثر ہونے والا تازہ ترین ملک ہے۔ واقی ڈاٹ انفو اور پلم پولیشن ایپ کے مطابق دارالحکومت ابوظہبی کا ایئر کوالٹی انڈیکس راتوں رات خطرناک زون میں پہنچ گیا۔مشرق وسطیٰ میں ریت کے طوفان تواتر سے آرہے ہیں جن کی شدت بہت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ گھاس کی کمی، جنگلات کی کٹائی، دریائی پانی کا زیادہ استعمال اور مزید ڈیموں کی تعمیر ہے۔ ماہرین کے مطابق صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے علاقائی موسم کی ترتیب متاثر ہوئی ہے۔ان ریتیلے طوفانوں کی وجہ سے ایئرپورٹس اور اسکولز بند کر دیے گئے ہیں جبکہ ہزاروں افراد کو سانس لینے میں دشواری کے باعث ہسپتال جانا پڑا۔ اماراتی حکام نے ملک بھر میں انتباہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ابوظہبی پولیس نے ڈرائیوروں کو تیز ہواؤں اور گردوغبار کے دوران کم روشنی کی وجہ سے محتاط رہنے کی تاکید کی ہے۔ تاہم دبئی ایئرپورٹس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایئر ٹریفک متاثر نہیں ہوئی ہے۔ آئندہ چند روز تک موسم کی صورت حال ایسے ہی رہنے کی توقع ہے۔