نمرہ کاظمی کو25 مئی کوعدالت میں پیش کیا جائے، سندھ ہائی کورٹ کا پولیس کو حکم

نمرہ کاظمی کو25 مئی کوعدالت میں پیش کیا جائے، سندھ ہائی کورٹ کا پولیس کو حکم

سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ نمرہ کاظمی کو25 مئی کوعدالت میں پیش کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں مبینہ طور پرپسند کی شادی کرنے والی نمرہ کاظمی کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔حکم کے باوجود کراچی سے مبینہ اغوا ہونے والی لڑکی پیش نہ کرنے پرعدالت نے پولیس حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی میں کیا ہورہا ہے؟ بچیاں غائب کی جارہی ہیں اور پولیس کچھ نہیں کررہی۔ 18 سال سے کم عمر بچیاں جارہی ہیں اور پنجاب میں کم ہورہی ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم نے حکم دیا تھا بچی کو ہرصورت سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیا جائے۔ اب تک نمرہ کاظمی کو بازیاب کراکرعدالت کیوں نہیں لایا گیا؟ڈی ایس پی سعودآباد نے بتایا کہ پولیس بچی کی والدہ کے ساتھ پنجاب میں موجود ہے۔ نمرہ کاظمی کی ڈیرہ غازی خان کےعلاقے تونسہ شریف میں موجودگی کی اطلاع ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب سے اجازت کے بعد مطلوبہ مقام پر چھاپہ مارا جائے گا۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ ہم حکم نامہ جاری کرتے ہیں اورجا کربتائیں محکمہ داخلہ پنجاب کوعدالت نے حکم دیا ہے۔ڈی ایس پی سعود آباد نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب سے آج چھاپہ مارنے کی اجازت ملنے کا امکان ہے۔عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ نمرہ کاظمی کو 25 مئی کو ہرصورت سندھ ہائیکورٹ میں پیش کیا جائے۔نمرہ کاظمی کے والدین نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ نہ بیٹی سے ملنے دیا جا رہا ہے نہ ہی کوئی خبردی جا رہی ہے۔ نمرہ کی عمر بھی 18 سال سے کم ہے۔والدین نے درخواست میں استدعا کی کہ نمرہ کو بازیاب کرانے کا حکم دیا جائے اوراس کی 18 اپریل کو ہونے والی شادی کو غیر قانونی قراردیا جائے۔