مارچ کے مقابلے میں مہنگائی سے پریشان افراد کی شرح 44 سے 47 فیصد ہو گئی

مارچ کے مقابلے میں مہنگائی سے پریشان افراد کی شرح 44 سے 47 فیصد ہو گئی

پاکستان میں مہنگائی، معاشی صورتحال اور ملکی سمت سے پریشان شہریوں کی شرح میں گزشتہ دو ماہ میں اضافہ ہوا ہے۔اپسوس پاکستان نے کنزیومر کانفیڈنس سروے کی دوسری سہہ ماہی کی رپورٹ جاری کی ہے.سروے رپورٹ کے مطابق مارچ 2022 میں 44 فیصد مہنگائی سے پریشان تھے تاہم اب یہ تعداد بڑھ کر 47 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔اس کے علاوہ ملکی سمت کو غلط کہنے والے پاکستانیوں کی شرح 80 فیصد سے بڑھ کر 88 فیصد ہوگئی ہے۔سروے میں شریک 49فیصد افراد نے ملکی معیشت کو کمزور کہا جبکہ 64 فیصد آئندہ 6 ماہ میں معاشی بہتری سے ناامُید دکھائی دیے.