خیبرپختونخوا: ٹیکسٹ بک بورڈ مالی بحران کا شکار، بچوں کو اسکول کی کتابیں نہ مل سکیں

خیبرپختونخوا: ٹیکسٹ بک بورڈ مالی بحران کا شکار، بچوں کو اسکول کی کتابیں نہ مل سکیں

پشاور: خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے اسکولوں کی درسی کتابوں کی چھپائی نہ ہونے کے باعث اسکول کے بچوں کو کتابیں مہیا نہیں کی جا سکیں۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا نے گرم علاقوں میں موسم گرما کی تعطیلات تو دے دی ہیں تاہم درسی کتابوں کی چھپائی نہ ہونے کے باعث بچوں کو مفت کتب مہیا نہیں کی جا سکیں اوریوں بچے چھٹیوں میں درسی کتابیں پڑھنے سے تاحال محروم ہیں۔خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق بورڈ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، اوپر سے حکومت نے مفت درسی کتب کی چھپائی کے اخراجات کی ذمہ داری بھی بورڈ پر ڈال دی ہے، چھپائی پر 5 ارب روپے کے اخراجات آتے ہیں جب کہ بورڈ کے پاس صرف 3 ارب روپے کے فنڈز موجود ہیں۔دوسری جانب محکمہ تعلیم پرامید ہے کہ موسم گرما کی تعطیلات گزرنے سے قبل ہی بچوں کو مفت کتابیں مہیا کر دی جائیں گی۔مفت سرکاری کتابوں کی چھپائی میں غیر معمولی تاخیر پر صوبائی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس اور تحریک التوا بھی جمع کرائی گئی ہے۔ٹیکسٹ بک بورڈ کے ملازمین ادارے میں مالی بحران کے باعث کئی دنوں سے قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں، ان کو خدشہ ہے کہ کتابوں کی چھپائی کے لیے ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کے پیسوں سے پرنٹرز کو ادائیگی کی جائے گی جس سے ملازمین تنخواہوں سے محروم رہ سکتے ہیں۔