پاکستان کی گرے لسٹ سے نکلنے کی راہ ہموار، بھارت میں ماتم

پاکستان کی گرے لسٹ سے نکلنے کی راہ ہموار، بھارت میں ماتم

تحریر :میراں سلہری
اللہ کا شکر ہے کہ ایک لمبے عرصے کے بعد قوم کو یہ خوشخبری سننے کو ملی پاکستان کے لیے مثبت گرے لسٹ سے نکلنے کی راہ تو کم ازکم ہموار ہوئی . پاکستان اب بس صرف ایک قدم کی دوری پر ہے اور مجھے پوری امید ہے کہ جہاں پر میرے خدا نے اس ارض پاک پر اپنا کرم کیا ہے مزید اور بھی کریں گے اور فٹیف باضابطہ طور پر اعلان بھی کر دیا جا کے پاکستان وائٹ لسٹ میں شامل ہو گیا ہے. جہاں پر پاکستان کی کامیابی کی بات ہوتی ہے تو بھارت میں ماتم برپا ہو جاتا ہےبھارت میں فضا سوگوار ہے .پاکستان کی اس کامیابی پر کیوں کہ بھارت اپنے ایک اور ناپاک عزائم میں بری طرح ناکام ہوا ہے اور مودی سرکار ایک بار پھر منہ کے بل زمین پر پٹک کر بری طرح گری ہے. بھارتی سرکار کی بھرپور کوشش تھی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کروایا جائے اور اس چیز کے لیے بھارت میں دن رات محنت کی جارہی تھی اگر یہی محنت بھارت اپنے ملک میں کسی کامیابی کے لئے کرتا تو شاید میرا خیال ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوجاتا .مگر بھارت کی ہمیشہ سے نیت پاکستان کے لئے خراب ہی رہی تو اس بار بھی یہی ہوا کہ بھارتی سرکار نے جب سنا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کی راہ ہموار ہوئی ہے. تو گزشتہ دنوں سے وہاں ماتم برپا ہے جہاں بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال وانے کی بھرپور کوشش میں تھا .تو وہیں پاکستان کے دوست ممالک نے خاموشی سے پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکلوانے کی کوشش شروع کر رکھی تھی اور اس حوالے سے چین کا نام سرفہرست تھا اور سفارتی ذرائع کہتے ہیں کہ جو ہمارے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے حامی تھے .وہ یہ دلائل دے رہے تھے کہ یہ اقدامات پاکستان کی معیشت کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے تقریبا چار سال بعد پاکستان کا یہ خوشخبری سننے کو ملے اپ جو ایک قدم دور تھے وہ بھی فٹیف کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کرنا ہیں اور ایکشن پلان پر جائزہ لینے کے بعد پاکستان کو باقاعدہ طور پر گرے لسٹ سے نکالنے کا اعلان بھی کر دی گی۔کیونکہ فٹیف کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے پاکستان میں نمایاں پیش رفت کی گئی ہے .پاکستانی 2021 کے نیشنل ایکشن پلان پر مقررہ اوقات سے پہلے عمل بھی کیا اور پاکستان کے اپنے دونوں ایکشن پلان مکمل کر لیے ہیں. فٹیف کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان اس بات کا حقدار ہے کہ تصدیق کے لیے وہاں کا دورہ کیا جائے اور پھر تصدیق ہوگی کے اصلاحات کا نفاذ ہو چکا ہے اور وہ برقرار ہے . فٹیف نے یہ بھی کہا کہ دورے میں تصدیق ہوگئی کہ مستقبل کے لیے پاکستان کا سیاسی عزم برقرار ہےفٹیف کورونا صورتحال کی بھی نگرانی جاری رکھے گا۔میں سمجھتی ہوں کہ یہ جو پیشرفت ہوئی ہے یہ پاکستان کی معیشت اور خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے 14 جون سے جرمنی کے شہر برلن میں فٹیف کا چار روزہ اجلاس جاری رہا. جس میں اہم ممالک کی طرف سے سفارشات کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان سے متعلق اہم اعلان کردیا گیا کہ پاکستان فٹیف کی طرف سے دیئے گئے 34 ایٹمز پر عمل درآمد کر چکا ہے اور اب جلد ختمی فیصلہ ہوگا۔گزشتہ دور حکومت کے دوران پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لئے کئی اہم اقدامات کیے گئے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ سے متعلق ضروری قانون سازی بھی کی گئی بلکہ مختلف کیسز کو منطقی انجام تک بھی پہنچایا گیا اور سب سے اہم کیس جسے ماہرین بڑی اہم نظر سے دیکھ رہے تھے .وہ یہ کہ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید اور دیگر رہنماؤں سے متعلق اہم کیسز تھے .لاہور کی دہشتگردی عدالت نے رواں سال 18 اپریل کو ہی محکمہ انسداد دہشت گردی کی طرف سے درج کیے گئے. مقدمات پر حافظ سعید کو مجموعی طور پر 33 سال کی قید سنائی اور یہ مقدمات ٹیررفنڈنگ سے متعلق تھے اس سے پہلے بھی عدالت میں حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کو مختلف کیسز میں سزائیں سنائی تھیں. عدالتیں منجمد کر چکی ہیں جب کہ حافظ سعید 2019 سے ہی زیر حراست میں ہیں.اور اب تک جماعت الدعوہ کے لیڈران پر 41 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں اور جب کہ 27 کیسز میں فیصلہ بھی آچکا ہے اور ان کیسز کو بھی پاکستان کی طرف سے فٹیف کی لسٹ سے نکالنے کے لئے اہم اقدامات کے طور پر لیا گیا ہے.اب تک پاکستان تین بار گرے لسٹ میں رہا ہے اور اتنا لمبا عرصہ نہیں رہا جتنا اس بار رہا ہے .پہلی بار پاکستان 2008 میں گرے لسٹ میں گیا تھا مگر 2010 میں کامیابی کے بعد نکل آیا تھا .مگر اس کے دو سال بعد ہی یعنی 2012 میں پاکستان کا نام پھر گرے لسٹ میں شامل کیا گیا اور اس بار پاکستان تین سال کے عرصے کے بعد گرے لسٹ سے نکلا یعنی 2015 میں پھر جون 2018 کو پاکستان کو دوبارہ فٹیف نے گرے لسٹ میں ڈال کر 27 نکات پر عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا گیا کہ اگر مقررہ وقت پر پاکستان ان نکات پر عمل درآمد نہ کیا تو پاکستان کا نام گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا. اس بات پر پاکستان کو سخت سیکیورٹی کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر میں سمجھتی ہوں کہ اس مسئلے سے پاکستان کو نکالنے میں گزشتہ حکومت اور ریاستی اداروں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے .اس کا کریڈٹ ہماری پاک فوج کو بھی بھرپور جاتا ہے ٹیرر فنانسنگ کے 27 اور منی لانڈرنگ کے 7 پوائنٹ پر عملدرآمد یقینی بنا کر پاکستان نے ایک بار پھر ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اس میں ہماری پاک فوج نے کلیدی کرداراداکیاہے گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنے کے لیے 2019 جی ایچ کیو میں ڈی جی ایم او کی سربراہی میں سپیشل سیل قائم کیا گیا اور دن رات محنت کرنے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں. جنھوں نے سخت محنت کرکے پاکستان کو بلیک لسٹ ہونے سے بچایا اللہ پاک میرے ملک کو ہر بری نظر اور ہر برے وقت سے بچائے آمین.

خدا کرے میرے عرض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو