یوکرین نے الگ ہونیوالی ریاستوں کو تسلیم کرنے پر شام سے تعلقات ختم کر دیے

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے شام سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ روز شام کی طرف سے یوکرین سے الگ ہو جانے والی دو ریاستوں عوامی جمہوریہ لوہانسک اور عوامی جمہوریہ ڈونیسک کو تسلیم کرنے کا اعلان سامنے آیا تھا۔گزشتہ روز شام کے سرکاری خبر رساں ادارے سانا نے کے حوالے سے خبر دی تھی کہ شام نے یوکرین سے آزادی کا اعلان کرنے والی دو ریاستوں کی خودمختاری اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شام لوہانسک اور ڈونیسک کی خودمختاری کو تسلیم کرنے والا روس کے بعد دوسرا ملک بن گیا ہے۔ شامی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے فریم ورک پر بات ہوگی جس میں سفارتی تعلقات قائم کرنا بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر اپنے حملے سے پہلے ہی ان دو ریاستوں کو تسلیم کر لیا تھا جبکہ یہ دونوں ریاستیں 2014ء سے یوکرین سے الگ ہونے کا اعلان کر چکی ہیں۔ یہ دونوں ریاستیں روسی حملے کے مرکز علاقے ڈونباس خطے میں واقع ہیں اور 2014ء سے یوکرین کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ اب شام نے بھی روسی تائید میں کیے گئے اقدامات کے تحت دونوں ملکوں کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے جس کے خلاف صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین کے شام کے ساتھ اب کوئی تعلقات نہیں رہے۔رواں ماہ کے اوائل میں شامی صدر بشارالاسد نے روسی وفد اور جمہوریہ ڈونیسک کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شام ڈونیسک کے ساتھ سیاسی تعلقات شروع کرنے کو تیار ہے۔ اس سے قبل شام نے 2018ء میں جنوبی اوسیشیا اور ابخازیہ کو سابق سوویت ریاست جارجیا سے آزاد تسلیم کیا تھا جس کے نتیجے میں جارجیا نے شام سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔