نالوں کی صفائی کیلئے کروڑوں روپے مختص ہونے کے باوجود کراچی کے ڈوبنے کا خدشہ

شہر قائد میں نالوں کی صفائی کے لیے کروڑوں روپے بجٹ میں مختص ہونے کے باوجود کراچی کے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے حالیہ مون سون سیزن میں کراچی میں معمول سے 30 فیصد زائد بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔کراچی میں آج یکم جولائی سے 5 جولائی تک مون سون کے پہلے اسپیل کی پیشگوئی کی گئی ہے تاہم حکومت کی جانب سے 60 کروڑ روپے کا بجٹ نالوں کی صفائی کے نام پر اڑانے کے باوجود شہر خطرے میں ہے۔کراچی کے چھوٹے بڑے برساتی نالوں کی مکمل صفائی ابھی تک نہیں کی جاسکی ہے۔شہر کے 50 فیصد چھوٹے نالے صفائی کے بعد پھر کچرے سے بھر گئے ہیں۔شہر بھر کے نالے دوبارہ چوک ہوجانے کی بڑی وجہ ان پر قائم کچرا کنڈیاں ہیں۔عوام کی جانب سے بھی پابندی کے باوجود نالوں میں کچرا پھینکا جارہا ہے۔شہری انتظامیہ کی جانب سے نالوں میں کچرا پھینکنے والوں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر موثر کارروائی سامنے نہ آسکی۔کے ایم سی کی جانب سے شہر کے 41بڑے اور 514 چھوٹے نالے 90 فیصد تک صاف کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم بڑے برساتی نالوں کے چوکنگ پوائنٹس تاحال کلیئر نہیں کیے جاسکے ہیں۔کے ایم سی حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ نالے 60 سے 70ملی میٹر بارش کا بوجھ اٹھالیں گے لیکن 80 ملی میٹر سے زائد بارش ہونے پر کئی علاقے زیر آب آسکتے ہیں۔ضلع کورنگی، کیماڑی وسطی اور جنوبی کے نالوں پر تجاوزات بھی بدستور قائم ہیں۔ بیشتر نالوں کا انفرا اسٹرکچر بھی انتہائی خستہ حال ہے، صفائی کے دوران ان حفاظتی دیواریں گرا دی گئی ہیں۔کئی مقامات پر ٹوٹے نالے اور کھلے مین ہول عوام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ کھلے نالوں کے باعث گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں کے نالے میں گرنے کی امکانات موجود ہیں۔