یوکرین، رہائشی عمارت پر روسی فضائی حملہ، 17 افراد ہلاک

یوکرینی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ روسی فضائیہ نے جمعے کو یوکرین میں ایک رہائشی عمارت اود ایک تفریحی مقام پر میزائل حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نے شعبہ ایمرجنسی سروسز کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں حملے اوڈیسا کے مقام پر ہوئے ہیں۔ عمارت پر حملے میں تیرہ افراد ہلاک اور لگ بھگ تیس افراد زخمی ہوئے جبکہ سات افراد کو ملبے سے نکالا گیا ہے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔دوسری جانب، تفریحی مرکز پر حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے جبکہ ایک شخص زخمی بھی ہوا۔اس حوالے سے اوڈیسا کے فوجی ترجمان سرجیف بریٹچک کا کہنا ہے کہ میزائل جنگی جہاز سے فائر کیے گئے۔چند روز پیشتر، روسی فوج نے کریمنچوک کے ایک شاپنگ سینٹر پر بھی میزائل حملہ کیا تھا جس میں کم سے کم اٹھارہ عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔تاہم، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے روسی فوجیوں کو ان حملوں کا ذمہ دار ماننے سے انکار کیا ہے۔یوکرین کے جنوبی حصے میں واقع اوڈیسا کا علاقہ اسٹریٹیجک لحاظ سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔اس جگہ یوکرین کی تاریخی بندرگاہ اوڈیسا پورٹ واقع ہے۔جمعرات کو روسی فوجیوں نے اوڈیسا کے ساحل کے قریب واقع سنیک آئی لینڈ پر اپنے مورچے خالی کر دیے تھے۔یاد رہے، 24 فروری کو روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تھا جس کے بعد تاحال جنگ جاری ہے۔ یورپی ممالک یوکرین کی حمایت کررہے ہیں۔ یورپی یونین میں شمولیت کے لیے امیدوار کی حیثیت بھی دے دی گئی ہے.علاوہ ازیں، گزشتہ ہفتے سے روسی حملوں میں شدت آئی ہے اور صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کی فوج کے ہتھیار ڈالنے تک جنگ جاری رہے گی۔