عمران خان 17 تاریخ تک الیکشن مہم چلائیں گے، شیخ رشید

شیخ رشید نے کہا ہے کہ عمران خان 17 تاریخ تک الیکشن مہم چلائیں گے۔سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا آئینی اور قانونی فیصلہ ہے، دونوں پارٹیوں کو قبول ہے، 17 جولائی کے الیکشن پر سارے ملک کی نظریں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے یہ الیکشن دھاندلی سے پاک الیکشن ہوں گے، کل کا جلسہ تاریخی ہوگا، عمران خان17 تاریخ تک الیکشن مہم چلائیں گے، 17 جولائی کے الیکشن میں پی ٹی آئی بھاری اکثریت سے جیتے گی۔سپریم کورٹ کا 22 جولائی کو وزیراعلٰی پنجاب کا الیکشن کروانے کا حکمچیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی کو ہوگا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلی پنجاب کے انتخاب میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق سماعت میں سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز اوراسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی کوسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ویڈیو لنک سے سماعت میں طلب کیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ 22 جولائی تک وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف ہی رہیں گے۔وکیل پی ٹی آئی امتیاز صدیقی نے عدالت میں بیان دیا کہ حمزہ شہباز دوبارہ الیکشن تک وزیراعلی رہیں گے۔ پنجاب حکومت سے بات ہو گئی ہے، ضمنی الیکشن کے بعد وزیراعلی کا الیکشن ہو تواعتراض نہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں 2 اجلاس چل رہے ہیں اس کا کیا کریں گے؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ اسمبلی کا اجلاس ایک ہی ہوگا۔چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ ہمارا بھائیوں جیسا تعلق ہوگا، اسمبلی میں بالکل مختلف ماحول ہوگا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میرے خیال میں ایک نیا دورہوگا، اللہ کا شکر ہے ہم مخالف سیاسی گروپوں کے درمیان افہام و تفہیم کے ساتھ معاملہ حل کرسکے۔وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان سے ہدایت لی ہیں۔ عمران خان حکومت کی قانونی حیثیت سے متاثر ہوئے بغیر پنجاب میں شفاف الیکشن چاہتے ہیں۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ آئی جی پنجاب، الیکشن کمیشنر، چیف سیکرٹری پنجاب قانون کے مطابق عمل کریں۔انھوں نے کہا کہ نگران وزیراعلی کوئی ایسا حکم یا ہدایت جاری نہیں کرے گا۔ نگران وزیراعلی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے الیکشن متاثرہو۔ کوئی بھی ترقیاتی فنڈز استعمال نہیں کیے جائیں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ ہمارے پاس واپس آئیں، ہم انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دے دیتے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تمام بیورو کریسی عین قانون کے مطابق عمل کرے گی۔ ہم یہ بھی حکم کر دیتے ہیں کہ آپ کو ہراساں نہ کیا جائے۔