عامر لیاقت کی موت ایک قتل ہے، قتل میں ملوث افراد کون؟ وکیل کے سنسنی خیز انکشافات

مذہبی اسکالر، سیاست دان اور ٹی وی میزبان مرحوم ڈاکٹرعامرلیاقت کے وکیل ایڈوکیٹ جمشید قاضی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی موت ایک قتل ہے۔اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرعامر لیاقت کی لیک ہونے والی آخری ویڈیوزان کے کراچی والے گھرکی نہیں تھی، کیوں کہ میں نے ان کے خداداد کالونی والے گھر کو بہت اچھی طرح دیکھا ہوا ہے۔ اور اس وقت وہ کراچی میں نہیں اسلام آباد میں تھے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ ویڈیوایم این اے ہاسٹل کی ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی محفوظ جگہ پر ان کی خواب گاہ کے اندر کی ویڈیو کون بناسکتا ہے؟جب کوئی قریبی شخص شامل نہیں تھا تو ان کی ویڈیوز اورتصاویرکیسے لیک ہوگئیں ؟ایڈوکیٹ جمشید قاضی نے مزید کہا کہ یہ ایک قتل ہے جس میں ان کی تیسری اورسابق بیوی دانیہ شاہ کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ کیوں کہ اس آخری ویڈیو لیکس نے ڈاکٹر صاحب کو بہت دل گرفتہ کردیا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹرعامرلیاقت سے محبت کرنے والا کوئی بھی فرد دانیہ شاہ کے خلاف کیس دائر کرسکتا ہے ، کرمنل چارج کرسکتا ہے اور اس کے لیے ہم ہر قانونی طریقہ بھی استعمال کرسکتے ہیں