غیرت کے نام پر ایک اور ہوا کی بیٹی بیدردی سے قتل

ڈجکوٹ میں غیرت کے نام پر ایک اور ہوا کی بیٹی کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق چغل پورہ کی رہائشی 22 سالہ مقتولہ پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی، حقیقی بھائی ارشد نے پسٹل سے سینے میں گولیاں مار کر ابدی نیند سلا دیا.پولیس نے نعش قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے رورل ہیلتھ سینٹر منتقل کر دیا، اطلاع پر ڈی ائس پی فیکٹرئ ایریا موقع پر پہنچ گئے ،پولیس مصروف کارروائی ہے۔غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے کس طرح کے کیسز سامنے آتے ہیں اور ان کا تعلق زیادہ تر کن علاقوں سے ہوتا ہے؟سب سے پہلے تو ہمارے معاشرے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چاہے لڑکا ہو یا لڑکی، ہر انسان کو اپنی زندگی اپنے حساب سے جینے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی سوچ اور رویّے کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ہمارے مُلک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں قانون موجود ہونے کے باوجود اس پر صحیح معنوں میں عمل در آمد نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں سزا کا خوف نہیں، اسی لیے جرائم بھی ہوتے ہیں۔ کورٹ میں کئی کئی سال کیسز چلتے رہتے ہیں اور 100 میں سے بمشکل 2 کو سزا ہوتی ہے۔2006ء میں قانون سازی کے بعد سے اب اس حوالے سے کچھ بہتری آنی شروع ہوئی ہے۔ یعنی پہلے اگر کسی کو قتل کیا جاتا تھا، تو مقتول کا وارث قاتل کو معاف کر سکتا تھا، لیکن اب قتل کا مقدّمہ ورثا کے ساتھ ریاست کی مدعیّت میں بھی درج ہوتا ہے۔یعنی اگر ورثا معاف کر بھی دیں تو ریاست کی وجہ سے قاتل کو کم از کم دس سال قید کی سزا تو ہوتی ہی ہے۔ علاوہ ازیں، سب کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جرگے، پنچایت وغیرہ غیر قانونی ہیں، اب اُن کے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔جہاں تک بات ہے کہ یہ کیسز کن علاقوں سے زیادہ سامنے آتے ہیں تو اندازے کے مطابق یہ واقعات جنوبی پنجاب اور سندھ میں زیادہ ہوتے ہیں۔