بجلی کےبلوں میں سیلز ٹیکس کےنفاذ کیخلاف درخواست پرایف بی آراوردیگرکونوٹس

بجلی کےبلوں میں سیلز ٹیکس کےنفاذ کے خلاف درخواست پرایف بی آراوردیگرکونوٹس جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کے نفاذ کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔جسٹس شجاعت علی خان نے شہری ناصر بشیر کی درخواست پر سماعت کی جبکہ درخواست میں وزیراعظم شہبازشریف، صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بذریعہ پرنسپل سیکریٹری فریق بنایا گیا۔درخواست میں ایف بی آر، چئیرمین واپڈا، وزیرقانون اور وزرات اطلاعات کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ چھوٹے تاجر اور ریٹیلر پر ٹیکسز سلیبز کو غیر قانونی طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔ ایک یونٹ بجلی استعمال کرنے والے چھوٹے تاجر پر بھی نیا ٹیکس لگایا گیا ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ مہنگائی کے خلاف نعرہ لگا کر آنے والی حکومت کے جھوٹے دعوی عیاں ہوچکے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف صادق امین نہیں رہے۔درخواست میں لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی کہ عدالت وزیراعظم سے پیٹرولیم مصنوعات بجلی، گیس، ادویات اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق پوچھے۔درخواست میں وکیل نے یہ بھی استدعا کی کہ عدالت ادارہ شماریات سے سالانہ مہنگائی کی رپورٹ بھی طلب کرے اور عدالت بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی وصولی کو کالعدم قرار دے۔لاہورہائی کورٹ نے ایف بی آر سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 اگست کو جواب طلب کرلیا۔