حکومت کے غلط فیصلوں کا بوجھ ہمیشہ عوام پر آتا ہے، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کے غلط فیصلوں کا بوجھ ہمیشہ عوام پر آتا ہے۔تفصیلات کے مطابق سراج الحق نے منصورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے مسئلے کی وجہ سے پوری قوم تکلیف میں ہے، بیوروکریسی کی لوٹ مار کی وجہ سے سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے اور آئی پی پیز کے معاہدوں کی وجہ سے بجلی بھی مہنگی ترین ہو گئی ہے۔

حکومتیں بائیس کروڑ عوام سے تاوان لے کر ان کا خون چوس رہی ہے
ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں بائیس کروڑ عوام سے تاوان لے کر ان کا خون چوس رہی ہے، بجلی کے بلوں میں ٹی وی ٹیکس لگا کر لوٹا گیا، بجلی کے بلوں میں کل نو ٹیکس لگائے گئے ہیں، بلوں میں بے شمار اقسام کے ٹیکسز حکومت لیتی ہے جن کا بجلی خرچ کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ملکی حالات کی وجہ سے ہر پانچواں شہری ڈپریشن کا شکار ہے
سراج الحق نے کہا کہ ملکی حالات کی وجہ سے ہر پانچواں شہری ڈپریشن کا شکار ہو گیا ہے، یہ مشکلات لیکن اشرافیہ کے لیے نہیں ہیں۔

پی ڈی ایم کی حکومت میں عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے تمام وعدے جھوٹے تھے اور انہوں نے یوٹرن لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، پی ٹی آئی کے چار سالوں میں اکانومی ریورس گئیر میں رہی، اس پارٹی نے مافیاز کو نوازا اور ان کے بینک اکاؤنٹس میں اضافہ ہوا، پی ڈی ایم کی حکومت میں بھی عوامی مشکلات میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
پاکستان پر ترپن ہزار ڈالر کا قرضہ ہے
انہوں نے کہا کہ اتنی کمپنیوں کی موجودگی کے باوجود بل کی ترسیل صرف دو دن قبل ہوتی ہے، حکومت کا کام تھا کہ بجلی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سستی بجلی منصوبے لگاتی، وزراء کی گاڑیوں میں پیٹرول نہیں عوام کا خون جلتا ہے، حکمرانوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے پاکستان پر ترپن ہزار ڈالر کا قرضہ ہے۔
بجلی کے بلوں میں ٹیکسز کے خلاف عدالتوں میں جائیں گے
سراج الحق نے کہا کہ ہم بجلی کے بلوں میں ٹیکسز کے خلاف عدالتوں میں جائیں گے، بارہ اگست کو بجلی کے بلوں کے ٹیکسز کے خلاف احتجاج شروع کر رہے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں اس وقت حکومت کا حصہ بھی ہیں اور آپس میں لڑ بھی رہے ہیں، کالا باغ ڈیم ایک متنازعہ معاملہ ہے۔

حکومت بے بس ہے
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ پہلے وہ ڈیم مکمل کریں جو متنازعہ نہیں ہے، کراچی کا مسئلہ اس حکومت نے تاحال حل نہیں کیا ہے، بلوچستان کا مسئلہ بھی اس حکومت نے حل نہیں کیا ہے، سودی مسئلے پر ہمارا احتجاج جاری ہے، خیبرپختونخوا میں چاروں طرف ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اور حکومت بے بس ہے۔
عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے
انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور ان پر عملدرآمد ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن کے فیصلے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ بھی دوسری جماعتوں کی طرح ہی ہیں، الیکشن کمیشن کے بعد ایک نیا منظر عامہ ہے جس پر عدالت کو فیصلہ کرنا چاہیے۔