پاکستان ریلوے کے افسران کو تربیت کیلیے چین بھیجا جائے گا، ترجمان ریلوے

پاکستان ریلویز کے ملازمین چین بھجوانے کا معاملے پر چیئرمین ریلوے ظفر زمان رانجھا نے کہا کہ چین سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہونے سے کوچیں خود بنا سکیں گے۔چئیرمین ریلویز ظفر زمان رانجھا نے کہا ہے کہ افسران اور آفیشلز کی ٹیم کو بین الاقوامی تربیت کے لیے چائنا بھیجا جا رہا ہے، معاہدے کے مطابق دورے کے لیے ضروری اخراجات بشمول ہوائی جہاز کا کرایہ، بورڈنگ، داخلی سفر، قرنطینہ مدت اور بیرون ملک ہنگامی طبی امداد وغیرہ پاکستان کو بوگیاں فراہم کرنے والی کمپنی برداشت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے افسران کی تربیت کا پاکستان ریلویز کے ریونیو بجٹ پر کوئی مالی اثر نہیں پڑے گا ، ملازمین کے تمام اخراجات معاہدے میں شامل ہیں ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہونے سے مستقبل میں ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا۔

ترجمان ریلوے نے بتایا کہ ریلوے کے 88 ملازمین چین کا دورہ کر رہے ہیں ، 230 مسافر بردار گاڑیوں کی خریداری/ مینوفیکچرنگ کے منصوبے کے تحت چین کا دورہ کریں گے ، 230 کوچز میں سے 46 کو مکمل طور پر بلٹ اپ ( سی بی یو) حالت میں فراہم کیا جانا ہے۔

ترجمان ریلوے کا کہنا تھا کہ 184 کوچز کیریج فیکٹری، اسلام آباد میں پروسیس شدہ/غیر پروسیس شدہ خام مال سے تیار کی جائیں گی ، اس پروجیکٹ کا تصور ٹیکنالوجی کی منتقلی ( ٹی او ٹی) کی بنیاد پر کیا گیا تھا، اس پراجیکٹ کے لئے پاکستان ریلوے ملازمین کی تربیت کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان ریلویز اپنی مینوفیکچرنگ سہولیات میں خام مال سے ان نئے ڈیزائن کی گاڑیاں تیار کر سکے گا ، معاہدے کے مطابق، ہر قسم کی کوچز کے پروٹو ٹائپ پی آر انسپکٹرز کے معائنہ اور ٹیسٹ کے تابع ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ ان کوچز کا فروخت کنندہ ریلوے کے تربیت یافتہ افراد کو معاہدے کی شرائط کے مطابق ڈیزائن، تیاری، تعمیر، معائنہ، کوالٹی کنٹرول، انوینٹری مینجمنٹ، کوچز کے آپریشن اور دیکھ بھال کے حوالے سے تربیت دے گا۔ترجمان ریوے نے مزید کہا کہ 88 میں سے، 50 افسران/تکنیکی عملے کو مینوفیکچرنگ اور دیکھ بھال کی سرگرمیوں سے متعلق تربیت کے لیے نامزد کیا گیا ہے ، ڈیزائن اور پروٹوٹائپ انجینئرز/ٹیکنیکل شعبہ کے18 اسٹاف کو نامزد کیا گیا ، 20 افسران /تکنیکی عملے کو معائنہ کرنے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سینئر افسر جو اگلے دو سالوں میں ریٹائر ہونے والے ہیں، اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر، پاکستان ریلویز کی جانب سے سی بی یو کے طور پر خریدی جانے والی گاڑیوں کے معیار اور ڈیزائن کی مطابقت کا معائنہ کرنے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

ترجمان ریلوے کا کہنا تھا کہ دورے کے لیے ضروری اخراجات بشمول ہوائی جہاز کا کرایہ، بورڈنگ، داخلی سفر، قرنطینہ مدت (اگر کوئی ہو) اور بیرون ملک ہنگامی طبی امداد، اگر ضرورت ہو، وغیرہ وغیرہ معاہدے کے مطابق فروخت کنندہ کو برداشت کرنا پڑے گا۔