کون سی 6 غذائیں آپ کو سینے کی جلن میں مبتلا کرسکتی ہیں؟

اگر آپ کو سینے میں جلن محسوس ہوتی ہے تو آپ کو جلد چند چیزوں کا استعمال چھوڑنا ہو گا اور اپنی صحت پر توجہ دینی ہو گی۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اس قسم کی بیماری کا شکار ہے تو وہ اپنی خوراک میں تھوڑی سی تبدیلی کر کے باآسانی اس سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے۔اب ہم ان غذاؤں کا ذکر کریں جن سے پرہیز کر کے آپ سینے کی جلن سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔
لہسن:
لہسن کا استعمال تیزابیت کو بڑھا دیتا ہے، بالخصوص کچا لہسن صحت مند لوگوں میں سینے کی جلن اور پیٹ کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔
مصالحے دار کھانے:
مصالحے دار کھانوں کے زیادہ استعمال سے پیٹ بھی خراب ہوسکتا ہے اور یہ جلن کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مرچوں میں کیپسیسن ہوتی ہے جس کی وجہ سے گیسٹرک کی شکایت ہو سکتی ہے۔گھر میں زیادہ مرچ مصالحے والے پکوان اور سالن بنانے کے بجائے ہلکے پھلکے مصالحے کا استعمال کریں۔
تیزابی کھانے:
تیزابیت والے کھانے جیسے ٹماٹر اور سٹرس والے پھل غذائی نالی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے لوگوں کو چاہیے کہ مالٹے، لیموں، انگور، سنترے جیسے پھلوں سے پرہیز کریں اور بیر، خربوزے، اسٹابیری جیسے پھلوں کو کھٹے پھلوں پر فوقیت دیں۔
چاکلیٹ اور کافی:
معدے اور سینے کی جلن کے مسئلے سے دو چار افراد کے لیے چاکلیٹ کا زیادہ استعمال مزید مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔ایسی صورتحال میں چاکلیٹ بارز ، چاکلیٹ کینڈیز، چاکلیٹ مشروبات جیسے موکا اور ہاٹ کافی وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہیے۔
گوشت:
ماہرین کی تحقیق کے مطابق چربی والا گوشت ہاضمے اور ہارمونز کو منفی طور پر متاثر کرسکتا ہے۔
کاربونیٹیڈ مشروبات:
معدے اور سینے کی جلن سے محفوظ رہنےکے لیے کاربونیٹیڈ اور شکر دار مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے اور اس کی جگہ پانی جلدی ہضم ہونے والے مشروبات جیسے ہلکے پھلکے جوسز کا استعمال کرنا چاہیے۔