راحت اندوری کو ہم سے بچھڑے 2 برس بیت گئے

ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

برصغیر کے اردو زبان کے معروف شاعر راحت اندوری کو ہم سے بچھڑے 2 برس بیت گئے۔ڈاکٹر راحت اندوری کی شخصیت کسی تعرف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ یکم جنوری 1950ء کو بھارتی شہر اندور میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام راحت قریشی ہے اور وہ راحت اندوری کے نام سے مشہور ہیں۔راحت اندوری ایک بھارتی اردو شاعر اور ہندی فلموں کے نغمہ نگار تھے۔وہ ’دیوی اہليہ یونیورسٹی اندور ‘میں اردو ادب کے پروفیسر بھی رہ چکے ہیں۔انہوں نے گلو کاری کے کئی رئیلیٹی شوز میں بہ طور جج حصہ لیا ۔راحت اندوری نے کئی بالی وڈ فلموں کے لیے نغمے بھی لکھے جو مقبول اور زبان زد عام بھی ہوئے ۔ان کی شخصیت مردہ ضمیر میں روح پیدا کرنے کے لیے کافی تھی ان کا نام ہی لوگوں کے شوق و رغبت میں اضافے کا باعث ہوا کرتا تھا۔
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

شعر و سخن کی محفلوں کو زندگی کے مقصد سے روشناس کرانے والے، عوام کی پریشانیوں پر شاعری کے مرہم لگانے والے راحت اندوری 2020 میں ہارٹ اٹیک کے باعث اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔اپنی موت والے دن صبح ہی انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں بتایا تھا کہ وہ کورونا وباء کا شکار ہوگئے ہیں۔

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے
لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کردیا
دو گز سہی مگر یہ مری ملکیت تو ہے
اے موت تونے مجھ کو زمیندار کر دیا