رواں سال جولائی میں ہنڈائی سیڈان کی فروخت صفر، دیگر کاروں کی فروخت میں بھی 58 فیصد تک کی نمایاں کمی ہوگئی

کارساز کمپنیوں کی طرف سے اپنی پیداوار کم کرنے،ہوشربا مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے جولائی 2022ءمیں ملک میں کاروں کی فروخت میں 58فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ مارکیٹ میں مندی کے اس رجحان میں ہنڈائی سیڈان کی فروخت صفر ہو گئی۔ نیوز ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ڈیٹا کے مطابق ملک میں گزشتہ ماہ صرف 11ہزار 837نئی گاڑیاں فروخت ہوئیں، جو ماہانہ بنیاد پر 58فیصد کم ہیں۔
ان میں ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی کی 2ہزار 408 گاڑیاں فروخت ہوئی جو ماہانہ بنیاد پر 62فیصد کم تھیں۔ اسی طرح ہنڈا اٹلس کار لمیٹڈ کی 37فیصد کمی کے ساتھ 2ہزار 537گاڑیاں جبکہ پاک سوزوکی موٹر کمپنی کی 58فیصد کمی کے ساتھ 6ہزار 679گاڑیاں فروخت ہوئیں۔
ہنڈائی نشاط موٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے اس عرصے میں صرف 213یونٹ فروخت ہوئے۔ اس لحاظ میں اس کمپنی کی گاڑیوں کی فروخت میں اس عرصے کے دوران 89فیصد کمی واقع ہوئی۔ ایلانٹرا اور سوناٹا سیلز کے لحاظ سے بدترین گاڑیاں ثابت ہوئیں کیونکہ گزشتہ مہینے کے دوران ان دونوں گاڑیوں کا ایک یونٹ بھی فروخت نہیں ہوا۔ جو ن 2022ءمیں سوزوکی کلٹس کے 2ہزار 468یونٹ فروخت ہوئے تھے جو جولائی میں صرف 661رہ گئے۔ اسی طرح آلٹو جون میں 7ہزار 487کی تعداد میں فروخت ہوئی جو جولائی میں 4ہزار 618رہ گئی۔ ویگن آر جون میں 2ہزار 134کی تعداد میں فروخت ہوئی جبکہ جولائی میں اس کے صرف 282یونٹ فروخت ہوئے۔ اسی طرح باقی تمام گاڑیوں کی فروخت میں بھی نمایاں کمی ہوئی اور ایلانٹرا ور سوناٹا کی سیلز جولائی میں صفر رہیں۔