پنجاب، ایک اور ننھی بچی زیادتی کے بعد قتل

پنجاب میں ایک اور ننھی بچی زیادتی کے بعد قتل کردی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بورےوالا کے نواحی گاوں 265ای بی میں پیش آیا، جہاں ایک اور ننھی کلی اغواء کے بعد قتل کردی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ 5 سالہ ایمان فاطمہ دوکان سے کاپی لینے گئی تھی کہ واپس نہ آئی البتہ اب شعبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے۔بچی کے والد نے بتایا کہ نعش گاوں میں واقع گندے پانی کے تالاب سے تیرتی ملی جبکہ اب بچی کی نعش ٹی ایچ کیو منتقل کردی گئی ہے جہاں پورسٹمارٹم جاری ہے۔واضح ہے کہ یومیہ گیارہ بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں، ماہرین نے اس امر پر افسوس کیا کہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کی درست تعداد سرے سے دستیاب ہی نہیں کیونکہ سماجی شرم و حیا کی وجہ سے اکثر واقعات سامنے نہیں لائے جاتے جسکی وجہ سے مجرمان بھی سزا سے بچ جاتے ہیں۔جائزہ رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی بچوں کے ذہنوں پر ایسے نفسیاتی زخم چھوڑتی ہے جس سے اِن کی شخصیت نہ صرف جارحانہ ہو جاتی ہے بلکہ وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر منشیات اور بعض اوقات خودکشی کا راستہ اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔