تعلیمی اداروں میں منشیات روکنے کے بل پر وزارت انسدادمنشیات سے ترامیم طلب

اسلام آباد (عابدعلی آرائیں) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال روکنے کے مجوزہ قانونی بل پر وزارت انسداد منشیات سے ترامیم طلب کرلی ہیں۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کا اجلاس چئیرمین اعجاز احمد چوہدری اجلاس کی صدارت میں ہوا۔اجلاس کے دوران راناثنااللہ کے کیس کے معاملے میں وزارت انسداد منشیات کی رپورٹ نامکمل قرار دے دی ہے اور وزارت کے حکام کو مشاورت کے لئے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے آئندہ اجلاس میں مفصل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔قائمہ کمیٹی میں وفاقی وزیرقانون رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کیس کی بحث کے دوران وزارت انسداد منشیات کے حکام نے بتایا کہ ہائیکورٹ نے راناثنا اللہ کے مقدمہ کو مزید انکوائری کا مقدمہ قراردیا ہے اس پر سینیٹرمقبول احمد کاکہنا تھا کہ اے این ایف اس معاملے پر وزارت قانون سے رائے تو طلب کرسکتی ہے۔اے این ایف حکام کا کہنا تھاکہ ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے چونکہ یہ معاملہ عدالتی کنسیڈریشن میں ہے اس پر ہم وزارت قانون کو کیسے بھجوائیں۔رکن کمیٹی سینیٹر مقبول احمد نے اے این ایف کے طریقہ کار پرقانونی سوال اٹھائے تو سیکرٹری وزارت انسداد منشیات حمیرہ احمد نے اس معاملے پر مشاورت کے لئے وقت مانگ لیا تو کمیٹی نے اے این ایف کو مشاورت کے لئے ایک ماہ کا وقت دے دیا۔چیئرمین کمیٹی نے وزارت انسداد منشیات کی رپورٹ نامکمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس پر اس حوالے سے مفصل رپوٹ دی جائے۔دریں اثناء سیکرٹری وزارت انسدادمنشیات نے رپورٹ تاخیر سے جمع کرانے پر کمیٹی سے معذرت کی، سیکرٹری کا کہنا تھا کہ سینیٹر دوست محمد خان کے ساتھ نا مناسب روئیے میں اے این ایف اہلکار شامل نہیں تھے، اے این ایف حکام ناکے نہیں لگاتے۔کمیٹی نے سینیٹر محسن عزیز کی طرف سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال روکنے کے لئے لائے گئے قانونی بل پر بحث کا آغاز کیا تو اے این ایف حکام نے بل کی مخالفت کر تے ہوئے موقف اپنایا کہ اے این ایف اہلکار طلبا کے ٹیسٹ نہیں لے سکتے کیونکہ ان کی اس طرح کی تربیت نہیں ہوتی اس لئے محکمہ صحت یا محکمہ تعلیم کے قوانین میں ترمیم کی جائے اور انسداد منشیات ایکٹ کو نہ چھیڑا جائے۔اس دوران وزارت قانون نے بھی محسن عزیزکے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بل میں بچوں کو تعلیمی ادارے سے خارج کرنے کی بات کی گئی ہے اور بچوں کو سکول سے نکالنے کا قانون آئین کے آرٹیکل 25 سے متصادم ہو گا۔اس دوران وفاقی وزیر انسداد منشیات نے بل میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے کہا کہ جن تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال ہو ان پر جرمانہ عائد کیا جانا چاہیے، جرمانے کے باوجود منشیات استعمال کی شکایات پر لائسنس منسوخ کیا جانا چاہیے۔