سکول مالک کا بیٹوں اور ٹیچرز کے ساتھ مل کر طالبہ کی والدہ پر تشدد

پنجاب کے شہر نارووال ایک پرائیویٹ سکول کے مالک نے اپنے بیٹوں اور خواتین ٹیچرز کے ساتھ مل کر ایک طالبہ کی والدہ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ نیوز ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق اس واقعے کی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں سکول مالک اور ٹیچرز کو خاتون کو زمین پر لٹا کر تشدد کا نشانہ بناتے، بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے اور اس کے کپڑے پھاڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیو میں خاتون مدد کے لیے پکاررہی ہوتی ہے مگر سٹاف کے دیگر لوگ کھڑے دیکھتے رہتے ہیں۔ اس دوران یہ لوگ خاتون کی کم عمر بیٹی (طالبہ) کو بھی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ خاتون اپنی بیٹی کو سکول چھڑوانا چاہتی تھی اور اس کاسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ لینے آئی تھی۔بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد خاتون اور اس کی بیٹی کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا جہاں سے انہیں پولیس نے آ کر نکالا۔متاثرہ خاتون رفعت کلثوم رانی نے پولیس کو بتایا کہ”میں نے اپنی بیٹی کا سکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ مانگا تھا جس پر سکول مالک شکیل، اس کے بیٹوں اور ٹیچرز نے مجھے اور میری بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ سکول والوں نے فیس بہت بڑھا دی تھی۔ میرا شوہر مزدوری کرتا ہے لہٰذا ہم سکول کی فیس ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے جس پر ہم نے فیصلہ کیا کہ بچی کو پرائیویٹ سکول سے چھڑو ا کر سرکاری سکول بھیج دیتے ہیں۔ سکول مالک نے کہا کہ سرٹیفکیٹ لینا ہے تو 6ماہ کی ایڈوانس فیس جمع کراﺅ۔ “