“ملکہ ترنم “کا خطاب حاصل کرنے والی میڈم نور جہاں کی آج 96ویں سالگرہ

پاکستان کی نامور گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کی آج 96ویں سالگرہ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے،پاکستان کی نامور گلوکارہ کو ہم سے بچھڑے 96 برس بیت گئے ہیں، ملکہ ترنم 21 ستمبر 1926 کو قصور میں پیدا ہوئیں۔تفصیلات کے مطابق گلوکارہ کی ملکہ ترنم نور جہاں کا اصل نام “اللہ وسائی” تھا، انہیں اپنے فن اورمحبت کی بنا پر لوگوں نے انہیں ملکہ ترنم کا خطاب دیا،نورجہاں نے اپنے فنی کیرئیر کا اغاز 1935 میں بطورچائلڈ سٹارفلم “پنڈ دی کڑیاں “سے کیا جس کے بعد “انمول گھڑی”،”ہیرسیال” اور” سسی پنو “جیسی مشہور فلموں میں اداکاری کے جوہر آزمائے۔نور جہاں نے 1935 سے 1963 تک فلموں میں اداکاری کے ساتھ گلوکاری کے فن کا بھی مظاہرہ کیا اور مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے اپنی خاص جگہ بنالی۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے فلم “چن وے” سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا, اس فلم کی ہدایتکاری بھی انہی نے دی تھی۔ایک ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 995 فلموں کے لئے نغمات ریکارڈ کروائے جن میں آخری فلم “گھبرو پنجاب دا “تھی جو 2000میں ریلیز ہوئی تھی۔نورجہاں بہترین گائیکی ،الفاظ کی ادائیگی اور سر کے اتار چڑھا ﺅمیں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں،یہی وجہ تھی کہ بھارت کی مشہور گلوکاروں نے بھی ان کے فن کو خوب سراہا، گلیمر کی دنیا سے لے کر جنگ کے محاذ تک ملکہ ترنم نور جہاں نے اپنی آواز کے سحر سے سب کو جکڑے رکھا،میڈم نور جہاں نے 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران قومی نغمے بھی گائے جو ہماری قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں ، حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے “صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی “اور” نشان امتیاز “سے بھی نوازا۔ چھ دہائیوں پر مبنی کیریئر رکھنے والی نور جہاں نے پورے ایشیاءاور برطانیہ میں بھی شہرت حاصل کی۔ملکہ ترنم نور جہاں 23 دسمبر 2000 کو شدید علالت کے بعد دنیائے فانی سے رخصت ہوگئیں لیکن ان کی آواز کا جادو آج بھی مداحوں کو مسحور کر دیتا ہے۔