خیبر پختونخوا میں نویں سے بارہویں جماعت تک مطالعہ قران کریم لازمی قرار دے دیا گیا

خیبر پختونخوا میں نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک مطالعہ قران کریم کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جس کے بعد لازمی پرچوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے ۔نجی ٹی وی “کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں خیبر پختونخوا حکومت نے نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک مطالعہ قران کریم لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کے احکامات جاری کردیے ہیں، 2023 میں میٹرک ،ایف اے اور ایف ایس سی کے سالانہ بورڈ امتحانات میں 75 نمبروں کا پرچہ لینے کے احکامات جاری کردیے گئےہیں، 2023 کے سالانہ بورڈ امتحانات میں میٹرک و انٹر کے کل نمبر 1100 سے بڑ کر 1225 ہوگئے۔اقلیتوں کے لئے ایتھیکس (اخلاقیات) پر مبنی لازمی مضمون بھی تیار کر لیا گیا، یہ اقلیتی برادری کے بچوں کے لئے نویں سے بارہویں جماعت تک لازمی مضمون تصور ہو گا ،مطالعہ قران کریم کے لازمی پرچے کے شامل ہونے کے بعد لازمی پرچوں کی تعداد 5 ہو گئی۔تعلیمی بورڈز نے بھی 2023 کے سالانہ میٹرک و انٹر کے امتحانات میں 75 نمبروں کا پرچہ امتحان میں شامل کرنے کے لئے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن سے سفارشات طلب کر لی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم نے بھی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کالجز میں مطالعہ قران کریم کی پڑھائی کا سلسلہ شروع کرنے کی غرض سے سفارشات بھجوا دی ہیں۔خیبر پختونخوا میں پرائمری سے آٹھویں جماعت تک مطالعہ قران پڑھانے کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس دوران پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی کہ مطالعہ قران کو لازمی مضمون کے تحت پڑھایا اور اس میں باقاعدہ بچوں سے امتحان بھی لئے جائے جس پر پشاور ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں باقاعدہ احکامات بھی جاری کر دے۔