چاند پر ایک بہت بڑی لکیر، معمہ کیا؟

چاند ہماری زمین سے تین لاکھ اور 84 ہزار کلو میٹر دوری پر واقع ہے، ایک اسپس گاڑی وہاں تک جانے کیلے زیادہ سے زیادہ تین سے لے کر چار دن کا وقت لیتی ہے لیکن اگر اسپس گاڑی ایلن ماسک کمپنی X-Space کی ہو تو دو دن میں آرام سے پہنچ سکتی ہے۔اس وقت چاند پر ناسا کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔یہاں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ چاند پر ایک بہت بڑی لکیر ہے جس کی نشاندہی ناسا نے پہلے بھی کی تھی۔ اس لکیر کی لمباٸی تقریبا 295 کلو میٹر تک بتاٸی جاتی ہے یعنی یہ ایک بہت بڑی دراڑ ہے لیکن 295 کلو میٹر کے بعد یہ دراڑ ختم ہوجاتی ہے۔لیکن اگر دوسری طرف دیکھیں تو چاند کی مکمل گولاٸی تقریبا 11 ہزار کلو میٹر کے آس پاس ہے۔ اپالو مشن کے دوران اس لکیر کو “ریمہ” نام دیا گیا یعنی جس اسٹرونمر نے پہلی بار اس کو دیکھا تھا اس نے اپنا نام دیا، اس کا مکمل نام “ریمہ ارڈیس” تھا۔لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شق القمر واقعے کی نشانی تو نہیں ہے اگر ہے تو یہ لکیر کی لمباٸی 11 ہزار کلو میٹر تک ہونی چاہیے تھی لیکن یہاں تو صرف 295 کلو میٹر تک ہے۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ شق القمر کا واقعہ سچ نہیں ہے۔ کیونکہ معجزہ کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔انسانی دماغ ایک لیمٹ کے اندر سوچ سکتا ہے اور وہ اس حد سے باہر نہیں سوچ سکتا اور اس مخصوص سرکل کے اندر سوچتے ہیں تو ایک انسان کیسے اُن کو اس مخصوص لیمٹ کے اندر کسی معجزے کو معلوم کرسکتا ہے۔یاد رکھیں کہ معجزات کو کبھی بھی ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ہماری پہنچ سے بہت اوپر کی چیز ہوتی ہے۔