آپ خوفناک فلمیں کیوں پسند کرتے ہیں؟ جانئے اس کی حیران کن وجہ

ہیلووین قریب ہے یہ ایک ایسا تہوار ہے جس میں لوگ خوبصورت پریوں یا شہزادیوں کا روپ اپناتے ہیں تو ساتھ ہی کچھ ڈراؤنی اور خوفناک فلموں کے مناظربھی دکھائی دینے لگتے ہیں۔اگر آپ کو ہارر فلمیں پسند نہیں ہیں تو آپ حیران ہوسکتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسی فلمیں دیکھنا کیوں پسند کرتے ہیں۔ جبکہ محققین نے ان کے لیے ایک جملہ کہتے ہیں یعنی ہارر پیراڈوکس۔یونیورسٹی آف وسکونسن، میڈیسن میں سینٹر فار کمیونیکیشن ریسرچ کی ڈائریکٹر، پی ایچ ڈی، جوآن کینٹر کہتی ہیں کہ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ واقعی کوئی ایسی طاقتور چیز ہے جو لوگوں کو ان چیزوں کو دیکھنے کے لیے اکساتی ہے، جبکہ اس کے برعکس ’’زیادہ تر لوگ خوشگوار جذبات کا تجربہ کرنا پسند کرتے ہیں۔‘‘
جبکہ ان فلموں کے بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف بے ضرر تفریح ​​ہیں۔ لیکن اگر ان کی کشش طاقتور ہے تو ان کا اثر بھی ہوسکتا ہے۔
ڈراؤنی فلموں کا خوف حقیقی ہے
فلم میں کسی کا تعاقب کیا جارہا ہوتو جو خوف آپ محسوس کرتے ہیں کیا وہ اس خوف سے مختلف ہے جو آپ اس وقت محسوس کر سکتے ہیں جب حقیقت میں آپ کے ساتھ ایسا ہورہا ہو۔جب تشدد اسکرین پر ہوتا ہے تو آپ واقعی خطرے میں نہیں ہوتے ہیں۔ لیکن آپ کے جسم میں اس کا ردعمل ضرور ہوتاہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب لوگ خوفناک تصاویر دیکھتے ہیں تو ان کے دل کی دھڑکن 15 دھڑکن فی منٹ تک بڑھ جاتی ہے۔ ان کی ہتھیلیوں میں پسینہ آنے لگتا ہے، پٹھوں میں تناؤ اور ان کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔
’’دماغ واقعی اس نئی ٹیکنالوجی یعنی فلموں سے مطابقت نہیں رکھتا ہے،‘‘سپارکس کا کہنا ہے۔ ’’آپ اپنے آپ کو بتا سکتے ہیں کہ اسکرین پر موجود تصاویر حقیقی نہیں ہیں، لیکن جذباتی طور پرآپ کا دماغ اس طرح رد عمل ظاہر کرتا ہے جیسے وہ موجود ہیں۔‘‘
جب اسپارکس نے نوجوانوں پر پرتشدد فلموں کے جسمانی اثرات کا مطالعہ کیا تو اس نے ایک عجیب و غریب نمونہ دیکھا کہ وہ جتنا زیادہ خوف محسوس کرتے تھے، اتنا ہی انہوں نے فلم سے لطف اندوز ہونے کا دعویٰ کیا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اسپارکس کا کہنا ہے کہ ’’ہماری ثقافت میں مردوں کو خطرناک حالات میں مہارت حاصل کرنے کے لیے یہ ایک طرح کی حوصلہ افزائی فراہم کرتی ہے۔‘‘ ان فلموں کے ذریعے یہ ہمارے قبائلی آباؤ اجداد کی ابتدائی دورکی طرف واپس جاتا ہے، جہاں کسی مشکل کو حل کرنے میں اپنی مردانگی کو منوانا ہوتا تھا۔ لیکن ہم نے اسے جدید معاشرے میں کھو دیا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ ہم نے اپنی تفریحی ترجیحات میں اسے بدلنے کے طریقے تلاش کر لیے ہیں۔‘‘
اس تناظر میں، اسپارکس کا کہنا ہے کہ فلم جتنی ڈراؤنی ہوگی، نوجوان اتنا ہی زیادہ خود کو طاقت ور محسوس کرے گا کہ اس نے اسے برداشت کیا۔ایک اور محقق کا کہنا ہے کہ انسانوں کو اپنے ماحول میں خطرات سے باخبر رہنے کیے لیے یہ ایک فطری ضرورت ہو سکتی ہے، خاص طور پر وہ قسم جو آپ کو جسمانی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ڈراونی فلموں کی اپیل کے لیے ناول نگار اسٹیفن کنگ کا کہنا ہے کہ یہ آپ کے ظالمانہ یا جارحانہ جذبات کے لیے حفاظتی ڈھال کی طرح کام کرتی ہیں۔ جسے ماہرین تعلیم علامتی کیتھارسس کا نام دیتے ہیں، اس مفہوم یہ ہے کہ تشدد کو دیکھنا اس پر عمل کرنے کی ضرورت کو روکتا ہے۔تاہم میڈیا سے تعلق رکھنے والے محققین اس سے بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرتشدد میڈیا لوگوں میں زیادہ دشمنی کے احساس کو بڑھاتا ہے، دنیا کو اس طرح دیکھنے اور پرتشدد خیالات اور تصاویر سے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ایک تجربے میں، ویور نے مسلسل کئی راتوں تک کالج کے طلباء کو پُرتشدد فلمیں (چک نورس اور سٹیون سیگل جیسے ستاروں کے ساتھ) دکھائیں۔ اگلے دن، جب طلباء نے ایک سادہ امتحان دیا، ایک ریسرچ اسسٹنٹ نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔ جن لوگوں نے پرتشدد فلمیں دیکھی تھیں، انھوں نے غیر متشدد فلمیں دیکھنے والے طلبہ کے مقابلے میں بدتمیز اسسٹنٹ کے لیے سخت سزا تجویز کی۔