وہ اوقات جب پانی پینے سے گریز کرنا صحت کیلئے فائدہ مند

جلد کی صحت یو یا آپ کی مجموعی صحت، ان کے حصول کے لیے پانی ہی واحد ذریعہ ہے۔یہ دنیا کا قدرتی بہترین مشروب ہے جو ہر لحاظ سے حیرت انگیز خصوصیات رکھتا ہے، دن بھر میں اس کی مناسب مقدار جسم کے افعال کی انجام دہی کے لیے بے حد ضروری ہے۔پانی ایک ایسا محلول ہے جس میں آپ مختلف اجزاء کو شامل کر کے اس کی افادیت میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کن اوقات میں پانی پینے سے گریز کرنا صحت کیلئے فائدہ مند ہے؟ اگر نہیں تو آئیے ہم آپکو بتاتے ہیں۔
سونے سے قبل
سونے سے قبل پانی پینے سے گریز کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو سونے میں معمول سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔اس کے علاوہ جیسا آپ کو علم ہوگا کہ دن کے مقابلے میں رات کو گردے اپنے افعال سست روی سے سرانجام دیتے ہیں تو یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد کو صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھ پیر سوجنے کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے، رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد میں یہ مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔
ورزش کے دوران
ورزش کے دوران پانی پینا منفی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ورزش کرتے ہوئے جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس سے گرمی کا احساس ہوتا ہے مگر خود کو ٹھنڈا کرنے کے لیے زیادہ پانی پینا مختلف اثرات جیسے سردرد، متلی، سرچکرانے وغیرہ کا باعث بن سکتا ہے۔
مرچوں کا احساس کم کرنے کی کوشش
زیادہ مرچ مصالحے کھانے کے بعد اگر جلن کا احساس ہو رہا ہو تو پانی پینے سے گریز کرنا چاہیے۔مرچوں میں موجود ایک مالیکیول اسی وقت تحلیل ہوتا ہے جب پانی کی جگہ ٹھوس سیال جیسے دودھ کو پیا جائے۔اگر مرچوں کے اوپر پانی پیا جائے تو وہ مالیکیول برقرار رہتا ہے اور منہ سے غذائی نالی تک پھیل سکتا ہے جس سے صورتحال زیادہ بدتر ہوسکتی ہے۔
مصنوعی مٹھاس
وہ افراد جو موٹاپے یا جسمانی وزن میں کمی کی کوشش کر رہے ہوں، مصنوعی مٹھاس خوراک کی اشتہا کو بڑھا کر جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
سمندری پانی
سمندری پانی مختلف وائرسز سے بھرا ہوتا ہے جو نقصان پہنچاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ غلطی سے بھی یہ پانی منہ میں چلا جائے تو اسے فوری تھوک دینا چاہیے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ سمندری پانی میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور جسم کو اسے خارج کرنے کے لیے بہت زیادہ خالص پانی کی ضرورت پڑسکتی ہے جس کا نتیجہ سنگین ڈی ہائیڈریشن کی شکل میں نکل سکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت