پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ریلوے کی جانب سے مکمل فنڈز استعمال نہ کرنے پر برہمی کا اظہار

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ریلوے کی جانب سے مکمل فنڈز استعمال نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین رانا تنویرحسین کی زیرصدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزارت ریلوے کے سال 2018-19 کے مالی حسابات کا جائزہ لیا گیا۔

آڈٹ حکام کا کہنا تھاکہ 30ارب 41کروڑ کے مختص بجٹ میں سے 23 ارب 25 کروڑ خرچ کیے گئے اور یوں سال 2018-19 میں 7 ارب 15 کروڑ کا بجٹ استعمال نہیں کیا گیا۔

سیکرٹری ریلوے کا کہنا تھاکہ وزارت منصوبہ بندی نے گرانٹ میں کٹوتی کردی تھی، خرچ نہ ہونےوالی اصل رقم 80 کروڑ 64 لاکھ روپے ہے۔

کمیٹی نے ریلوے کی جانب سے مکمل فنڈزاستعمال نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا جبکہ چیئرمین پی اے سی نے پیرا نمٹاتے ہوئے وزارت منصوبہ بندی سے وضاحت طلب کر لی۔

اس موقع پر شیری رحمان کا کہنا تھاکہ پچھلے تین سال میں ریلوے میں 31 حادثات ہوئے، گھوٹکی میں ہونے والے آخری حادثے میں بھاری جانی نقصان ہوا لیکن ریلوے حکام ضلعی سطح پر فنڈز جاری نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ فنڈز لیپس ہورہے ہیں، ریلوے ٹریکس کی مرمت تک نہیں ہورہی اور یہ کہتے ہیں ایم ایل ون منصوبہ آئے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

رانا تنویر نے استفسار کیا کہ ایک سال میں حادثات میں کتنے بندے مارے گئے؟ اس پر سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ ایک ہی بڑا حادثہ ہوا ہے انکوائری جاری ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس حادثے کی ابھی تک انکوائری مکمل کیوں نہیں ہوئی؟ انکوائری جلد مکمل کریں ورنہ ہم احکامات دیں گے۔

Star Asia

اسٹار ایشیا پاکستان کا مقبول نیوز چینل ہے۔

Read Previous

شیر اور چیتے سمیت کئی جانوروں کو بھی کورونا ویکسین لگا دی گئی

Read Next

افغان مسئلےکے سیاسی حل کی کوشش کررہے ہیں، طالبان سے بھی بات کرینگے، وزیراعظم