سیریز منسوخی اور اس میں چھپے حقائق’

تحریر:محمد رمضان

پاکستان بھر میں اور دنیا بھر میں کرکٹ کے جتنے بھی شائقین ہیں ان کے لیے بہت برا دن تھا ۔۔۔کرکٹ کی تاریخ میں حیران کن دن تھاکرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کے ساتھ اس سے برا پہلے کبھی نہیں ہوا۔میں کوئی مایوسی نہیں پھیلا رہا ۔ لیکن جو حقائق ہیں وہ آپ کے سامنے رکھوں گا۔
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے ایک میچ نہیں ۔ بلکہ پوری کرکٹ سیریز کینسل کر کے پاکستان سے جانے کا فیصلہ کیا۔نیوزی لینڈ  کی سیکورٹی ٹیم جو کہ اس ٹیم کے سکیورٹی کے معاملات دیکھتی ہے ۔جو نیوز ی لینڈ کو ایڈوائز کرتی ہے کہ آپ نے اس ملک میں کھیلنا ہے اس میں نہیں کھیلنا۔وہ پچھلے چار ماہ سے پاکستان میں موجود ہے۔
اور 31 اگست کو اپنی فائنل رپورٹ پیش کرتی ہے کہ پاکستان ایک سیف ملک ہے۔اور ان کا سکیورٹی پلان سب سے شاندار ہے ۔لہذا نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان آئے اور آکر کرکٹ سیریز کھیلے اس ملک میں سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔اس ملک میں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ یہ صرف نیو زی لینڈ نہیں۔ بلکہ اس کے بعد انگلینڈ ۔ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز اور پھر نیوزی لینڈ نے دوبارہ پاکستان کا دورہ کرنا تھا
یعنی کہ ایک ترتیب کے ساتھ کرکٹ کی تمام بڑی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔لیکن اس میں وہ ٹیم جس کو پاکستانی اپنی کرکٹ ٹیم کے بعد سب سے زیادہ سپورٹ کرتے ہیں۔تمام دوسری کرکٹ ٹیم کے مقابلے مل میں نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کو سب سے زیادہ سپورٹ کرتے ہیں۔2019  کے ہونے والے آئی سی سی سی ورلڈ کپ کے فائنل میں پاکستانی عوام نے سب سے زیادہ نیوزی لینڈ کو سپورٹ کیا اور اس کے لیے دعا مانگی۔پاکستانی عوام نے کہا اگر ہماری ٹیم ورلڈ کپ کا فائنل نہیں کھیل سکی کی تو کوئی بات نہیں ہم نیوزی لینڈ کو سپورٹ کریں گے اور ان کی جیت کے لیے دعا گو ہیں
اور پاکستانی عوام اس ٹیم کے ساتھ کھڑی رہی اور اس کو اپنی دوسری مانتی تھی۔پاکستانی کرکٹ شائقین نیو زی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم سے بہت پیار کرتے ہیں۔جتناکسی اور ٹیم سے نہیں کرتے۔اور اچھے برے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوئے
حالانکے پاکستان کے ہمسائے میں ہی افغانستان کرکٹ ٹیم اور دوسری طرف بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم میں بھی ہے لیکن پاکستانی عوام نے سب سے زیادہ نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کو سپورٹ کیا
پاکستانی عوام  نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ بہت زیادہ پیار کرتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے ۔بات کریں کچھ عرصہ پہلے کی تو نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ ہوا ۔اور اس کے بعد جو کچھ بنگلہ دیش ٹیم کے ساتھ ہوا۔ وہ سب بھی آپ کے سامنے ہے۔میچز کینسل ہوئے ۔تو اس کے بعد پاکستان نے اظہار یکجہتی کے لئے خود کو پیش کیا۔اور کہا کہ ہم آپ کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں
اور پاکستان نے مشکل حالات میں نیوزی لینڈ میں جاکے کرکٹ کھیلی اور دنیا کو یہ میسج دیا کہ نیوزی لینڈ ایک محفوظ ملک ہے
یہ ہے پاکستان کرکٹ ٹیم اور یہ ہے اس کا پیار ۔نیوزی لینڈ میں میں مسجد میں حملے کے بعد پاکستانی عوام نے نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو سپورٹ کیا ان کے بارے میں اچھی رائے قائم کی اور اس وقت پاکستانی قوم نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ ۔ اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ اور دیگر اکاؤنٹ پر اپنی ڈی پی ہٹا کر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی ڈی پی لگائی
اور یہ کہا کہا کہ وزیراعظم مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرنے والی خاتون ہے اور ہم اس کے جذبات کی تعریف کرتے ہیں ۔لیکن افسوس نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا بیان جو اس وقت مسلمانوں کے بارے میں تھا لیکن یہ سب سیاست لگتا ہے ۔اگر دیکھا جائے آئے تو اس ملک کے اپنے سیکورٹی والوں نے پاکستان میں آ کر چار ماہ گزارے اور بعد میں اپنی ٹیم کو کو کھیلنے کے لئے بلایا۔کے آپ آجاؤ  اور پاکستان آکر سیریز کھیلو۔11 ستمبر کو نیوزی لینڈ کی ہیں پاکستان پہنچی۔اور اس کو مکمل سیکورٹی کے ساتھ ہوٹل پہنچایا گیا
چھ دن سے یہ ٹیم پاکستان میں ہے۔اور یہ ہوٹلوں میں بند نہیں رہے بلکہ چار سیشن میںیہ باہر نکلتے ہیں اور آ کےکرکٹ کھیلتے ہیں اور واپس اپنے ہوٹل میں چلے جاتے ہیں ۔اور یہ ان دنوں کے دوران مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں
اور اس ٹیم کی کچھ تصویر سیکورٹی فورسز کے ساتھ وائرل ہوتی ہیں۔یعنی کے بڑا نارمل ماحول چل رہا تھا۔بلکہ کہ اس دوران نیوزی لینڈ نے کہا تھا ہم آپ کی سکیورٹی سے مطمئن ہیں آپ سیکیورٹی کو توڑا کم کر دیں۔17 ستمبر کو پہلا ون ڈے کا میچ تھا۔ٹکٹ فروخت ہو چکی تھی ۔اور عوام میچ دیکھنے کے لیے پرجوش تھی۔سب لوگ اس انتظار میں تھے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ کا ٹاس ہو۔کیوں کہ پاکستانی وقت کے مطابق دو بجے ہونا تھا اور میچ پاکستانی وقت کے مطابق 2 بج کر تیس منٹ پر شروع ہوا تھا ۔گراؤنڈ میں وکٹ لگ چکی تھی عوام بے چینی سے گراؤنڈ میں آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔اور آج انہیں نیوزی لینڈ ٹیم نے کہا کہ ہم میچ نہیں کھیلیں گے تو اس پر پاکستان کی جانب سے وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی
تو اس پر نیوزی لینڈ نے کہا کہ ہمیں سکیورٹی خداشات ہیں۔جس کی وجہ سے ہم پاکستان کا دورہ کینسل کر رہے ہیں

اس بات کا علم عمران خان کو ہوا تو آج عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ٹیلی فون کیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا کیا۔بتایا کہ آپ کی ٹیم کو یہاں پر کوئی سکیورٹی خدشات نہیں ہیں۔تو اس پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ ٹیم میچ کھیل کے باہر نکلے گی اس پر حملہ ہوگا تو اس لیے ہمیں سب سے اہم اپنی ٹیم ہے۔ افسوس کے ساتھ یہ دورہ کینسل کرنا ہوگا ۔اس بات پر عمران خان خاموش ہو گئے

دو دن بعد انڈیا میں آئی پی ایل دو بار شروع ہونے جا رہی ہے

تو بھارت کی کوشش ہوتی ہے کہ آئی پی ایل کے دوران کوئی بڑی سیریز نہ ہو ۔کیونکہ بھارت چاہتا ہے کہ جب آئی پی ایل شروع ہوا تو اس وقت ساری عوام کا دھیان آئی پی ایل کی طرف ہو ۔نیوزی لینڈ کے دورہ پاکستان پر بھارت میں پچھلے سات دن سے یہ خبریں چل رہی تھیں کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کینسل ہو جائے گی,اور وہ ہی ہوا ہے۔اگر ہم بات کریں کہ پاکستان اس کا جواب کیسے دے گا تو اب ہمیں 26 اکتوبر کا انتظار کرنا ہوگا اور اس دن پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ کو ایسی شکست دے ۔جو ان کو سالوں تک یاد رہ

starasianews

Read Previous

وزیراعظم عمران خان کا ویجن ون بلین ٹری کا خواب دوسری جانب مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت

Read Next

یکساں نصاب تعلیم