یکساں نصاب تعلیم

تحریر:محمد رمضان

حکومت نے ملک بھرمیں یکساں نصاب تعلیم رائج کر دیا ہے۔تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں اب ایک جیسی نصابی کتب پڑھائی جائیں گی۔انگریزی میڈیم اوراردو،مقامی زبانوں کے میڈیم اسکولوں میں یکساں درسی کتب ہوں گی،جوکہ حکومت سے منظورشدہ ہیں۔حکومت کے اس اقدام پرایک طرف تو دادوتحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف شدیدتنقید ہو رہی ہے ۔
ایک گروپ ایسا ہے کہ جو یکساں یہ نصاب تعلیم کے حق میں ہے۔اور دوسری طرف وہ گروپ ہے جو حکومت کے اس عمل کے خلاف ہے اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔جو لوگ اس کے حق میں ہیں , ان کے مطابق حکومت کا یہ بہت اچھا اقدام ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں یکساں نصاب تعلیم ہوگا گا تو پورے ملک میں تعلیم کا معیار ایک جیسا ہوگا ایک عام آدمی کا بچہ بھی وہی تعلیم حاصل کرے گا جوکہ امیر آدمی کا بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے
حکومت کے اس عمل سے سے سرکاری اسکول اور کالجز کی رونقیں دوبارہ بحال ہوں گئی۔اور اسے غربت میں بھی کمی واقع ہو گئی۔کیونکہ جب امیر اور غریب کا بچہ ایک جیسی تعلیم حاصل کریں گے تو ان میں بڑے اور چھوٹے کا فرق نہیں ہوگا ۔۔حکومت کے اس عمل سے سب سے زیادہ فائدہ دینی مدارس کے بچوں کو ہوگا۔کیونکہ ہمارے معاشرے میں ان بچوں کو دوسرے بچوں کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا ہے۔اگر سوچا جائے تو تو وہ بچے جو دینی مدارس کی تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ ہمارے بچوں سے کافی حد تک بہتر ہیں کیونکہ وہ عام تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں جو کہ پرائیویٹ اسکول میں نہیں دی جاتی۔
یکساں نصاب تعلیم کے حکومتی اقدام پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ نظام دینی مدارس کے لئے بہترین ہے،اس طرح مذہبی مدرسوں کے طالب علم بھی وہی علم حاصل کرسکیں گے جوحکومتی اور نجی اسکولوں کے بچے حاصل کر رہے ہیں۔ناقدین کاکہنا ہے کہ انگریزی میڈیم اسکولوں کویکساں نصاب کے نام پرزوال کی طرف مجبورکرنا انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔
یکساں نصاب تعلیم کے متعلق یہ دو انتہائی متضاد نقطہٴ نظرہیں۔یہ بیک وقت دونوں درست نہیں ہوسکتے،یہ اپنی جگہ حقیقت ہے۔مگرایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دونوں نقطہ ہائے نظرمیں چند دلائل ایسے ہیں جنہیں مکمل طور پرنظراندازیاجھٹلایا نہیں جا سکتا۔
تعلیمی نصاب اور ذریعہ تعلیم سے زیادہ اہم بات تعلیم کا معیارہے۔
حکومت کو چاہیے کہ سب سے پہلے مجھے اسکولوں کے ماحول کو ایک جیسا کیا جائے۔کیونکہ اگر تعلیم کا نظام ایک جیسا ہو بھی جائے۔اس کا فائدہ تب ہی ہوگا جب سرکاری سکول پرائیویٹ سکول کے ماحول میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ سرکاری سکول پھول اور پرائیویٹ سکول کے بچوں کا ماحول پھول مختلف ہوتا ہے ان کے بات کرنے کا انداز آج ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے
پرائیویٹ سکول کے بچوں کو سرکاری سکول کے بچوں کے مقابلے میں بہتر سمجھا جاتا ہے۔یہ کہا جاتا ہے ہے کہ سرکاری سکول کے مقابلے میں پرائیویٹ اسکول کے بچے زیادہ طبیعت ہوتے ہیں ۔
لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔آپ نے کسی کے تعلیمی معیار کو دیکھنا ہو تو اس کے معاشرے کو چیک کریں۔اس معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی باتوں سے ان کے تعلیمی معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔اور اگر آپ کی تربیت اچھی ہوگی تو آپ کی تعلیم بھی اثر کرئے گی
تو میرے خیال کے مطابق حکومت کو سب سے پہلے سکول کے ماحول کو بہتر کرنا ہوگا۔کیونکہ اگر ماحول بہتر ہوگا تو اس سے معاشرہ ترقی کرے گا۔اور اگر اگر معاشرہ ترقی کرے گا تو وہ ملک بھی ترقی کرے گا
باقی اگر ہم دیکھیں سرکاری سکول اور اسی طرح کے تمام تعلیمی ادارے ہیں ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔اگر سکولوں میں ماحول ایک جیسا ہو گا تو اس سے معاشرہ ترقی کرے گا اور لوگوں میں شعور آئے گا ۔اور لوگ ہمیشہ اپنی تربیت اور شعور کی وجہ سے جانے جاتے ہیں
تعلیمی نصاب اور ذریعہ تعلیم سے زیادہ اہم بات تعلیم کا معیارہے۔
تعلیمی اداروں کا ماحول زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ملک میں تعلیم کی شرح کیسے بڑھائی جائے؟اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جب پاکستان وجود میں آیا توشرح خواندگی بارہ فیصد تھی۔گزشتہ ستر سال میں ہم نے بڑی کامیابی سے اسے ساٹھ فیصد تک پہنچایا۔موجودہ حکومت کو اگراس قوم کے نونہالوں کی تعلیم وتربیت کی فکر ہے تواسے چاہئیے کہ اس ساٹھ فیصد شرح خواندگی کواوپراٹھائے ،اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے جو شرح خواندگی پرنظر رکھتے ہیں،ان کا کہناہے کہ ان تین برسوں میں ہماری تعلیمی شرح بڑھنے کی بجائے نیچے کی طرف گئی ہے۔
کروڑوں بچے جن کی اسکول جانے کی عمر ہے وہ اسکول سے باہر ہیں،حکومت کوان کی فکرکرنے کی ضرورت ہے۔یکساں تعلیمی نصاب کاسوال بعدمیںآ تا ہے،پہلے ان کروڑوں بچوں کوسکول میں داخل کرنے کا کوئی بندوبست ہوناچاہیئے۔

starasianews

Read Previous

سیریز منسوخی اور اس میں چھپے حقائق’

Read Next

پی ٹی آئی کے تین سال